میں فروا کے اوپر گرتا گیا اور فروا بھی نیچے بیڈ پہ لیٹ گئی میرے لن نیم اکڑا ہوا اس کی گانڈ میں تھا وہ زرا ڈرامائی انداز میں روہانسی ہوتی ہوئی بولی افف میں تو سوچ رہی تھی ایک بار کافی ہوتی ہے یہ تو دو بار مشین تو دو بار بورنگ کر کہ بھی تیار کھڑی ہے ہائے میری گانڈ گئی۔ اس کے انداز سے میں بے اختیار ہنس پڑا اور اس سے کہا گڑیا تم پچاس سال پرانی مشین کے کارنامے دیکھتی رہی ہو یہ مشین تو ابھی نئی ہے اور اس راستے پہ تو پہلی بار استعمال ہوئی ہے جو راستہ اس کا پسندیدہ بھی ہے ۔ فروا بھی کسمساتے ہوئے بولی تو پسندیدہ راستے کو پہلی ہی بار اتنا وسیع تو نہ کرو کہ تیس سال سے استعمال شدہ راستے کی طرح پہلی بار ہی ہو جائے۔ میں نے اس کے سر کو سہلایا اور کہا فکر مت کرو مشین باہر نکلتے ہی راستہ پہلے جیسا ہو جائے گا ۔ وہ پھر اسی انداز میں بولی یہ مشین نکلے گی تو پہلے جیسا ہو گا اب تو میں اس منحوس مشین کو پاس سے بھی نہ گزرنے دوں یہ پھر چھوڑتی ہی نہیں۔ میں نے ہنستے ہوئے کہا بھائی مشین تو چھوڑ رہی ہے لیکن تمہاری یہ پہاڑیاں ہی اسے جدا نہیں ہونے دے رہی یہ دیکھو میں نے اپنا وزن گھٹنوں پہ ڈال کہ لن کو ہلکا سا کھینچا جو ظاہر ہے تنگ سوراخ میں پھنسا ہوا تھا ۔ میں نے کہا یہ دیکھو گڑیا کیسے جھکڑا ہوا ہے تو فروا نے شرم سے چہرہ چھپا لیا اور بولی بدتمیز انسان وہ سوراخ تنگ ہے تبھی پھنسا ہوا ہے ورنہ کوئی جھکڑا نہیں ہے۔ میں بھی ہنس پڑا اور لن کو کھینچ کر باہر نکالا تو فروا نے ایک ہاتھ فورا سوراخ پہ رکھا اور اٹھ کہ بیڈ سے نیچے اتری مگر نیچے قدم رکھتے ہی لڑکھڑا کہ گرنے لگی لیکن میں نے ایک دم اسے تھام لیا اور کہا گڑیا سنبھل کہ ۔۔ اس نے مجھے دیکھ کہ ہونٹ بھینچے اور مسکرا کہ میرے گلے لگ گئی اور بولی واش روم جانا مجھے ۔ مین اسے سہارا دے کر واش روم لے گیا واش روم کے دروازے پہ پہنچ کہ وہ رکی اور میرے ہونٹ چوس کہ بولی ۔۔ بس اب یہین تک رکو میں آئی اور یہ کہتے ہی باتھ میں گھس گئی ۔ میں ہنس کہ باتھ کہ دروازے پہ کھڑا ہو گیا تھوڑی دیر بعد وہ باتھ سے نکلی تو اسی برح ننگی تھی میں بھی باتھ میں گھس گیا اور خود کو دھو کہ باہر نکلا تو دیکھا وہ اپنے کپڑے پہن چکی تھی اور بیڈ پہ بچھی چادر بھی اس نے اٹھا دی تھی اور تیل کی بوتل بھی اٹھا کہ ڈریسنگ ٹیبل پہ رکھ چکی تھی ۔ مجھے باہر نکلتے دیکھ کہ ہنستے ہوئے بولی ساری چیزیں جگہ پہ چلی گئیں سوائے ایک جگہ کے۔ میں اس کے قریب ہوا اور اسے گلے سے لگا لیا اور بولا صبح جب سو کہ اٹھو گی تو وہ بھی اپنی جگہ پہ چلی جائے گی فکر مت کرو۔ فکر ہوتی تو میں آپ کے پاس آتی ہی کیوں؟ یہ کہہ کر اس نے میری چھاتی پہ مکا مارا اور بولی اب جاتی ہوں پھر ملیں گے ۔ اور میرے گلے ملتی ہوئی میرے ہونٹ چوم کہ پیچھے ہٹتی گئی دل تو میرا نہیں کر رہا تھا لیکن اسے جانا بھی تھا اور وہ بیتے ہوئے لمحوں کی یادیں چھوڑتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی وقت کا کیا ہے وقت تو گزر ہی جاتا ہے پیچھے صرف یادیں رہ جاتی ہی