پہلا نشہ پہلا خمار 03

 









اس طرح کے ایک دو اور واقعات بھی ہیں لیکن طوالت کے ڈر سے صرف یہی واقعہ بیان کرتی ہوں کہ میرے لئے سب سے انسپائیرنگ یہی واقع تھا ۔ ۔اس کام کے ساتھ ساتھ میں سکول کا ہوم ورک اور سٹڈی کو نہیں بھولی تھی ۔۔دونوں کام ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔۔اس بات کو کافی عرصہ بیت گیا۔

ایک دن کی بات ہے کہ ان دنوں ہمارے سکول میں پیپر ہونے والے تھے اور میں نے پیپرز کی تیاری کے لیئے سکول سے چھٹی کی تھی۔ماما اور ڈیڈ آفس چلے گئے تھے۔

 گھر میں کام والی ماسی فارغ ہو کر میرے کمرے میں آئیں اور کہنے لگیں۔۔ بیٹا میرا کام ختم ہو گیا ہے اور میں گھر جا رہی ہوں

میں اس سے بولی۔۔۔ ٹھیک ہے ماسی آپ جائیں۔۔ہاں جاتے ہوئے خان بھائی سے بولیں کہ گیٹ کو لاک کر دے۔

اور خود سٹڈی کرنے لگی۔ پڑھتے پڑھتے جب میں بور ہونے لگی تو سوچاکہ کچھ ٹھنڈا پی کر فریش ہوتے ہیں یہ سوچ کر میں اپنے بیڈ سے اُٹھی اور کچن میں چلی گئی جہاں پر فریج پڑی تھی۔۔ وہاں جا کر میں نے فریج کا دروازہ کھول کر دیکھا تو پیپسی موجود نہ تھی۔۔ حالانکہ کہ کل ہی میں نے چار پانچ کین رکھے تھے۔ لیکن اس وقت ایک بھی نہیں پڑا تھا۔

فریج کو خالی دیکھ کر میں سمجھ گئی کہ ساری پیپسی اسد بھائی پی گئے ہوں گے مجھے غصہ تو بہت آیا۔اگر اس وقت اسد بھائی سامنے ہوتے تو آج پھر ایک زور دار لڑائی ہو جانی تھی۔ لیکن افسوس کہ وہ کالج گئے ہوئے تھے۔اس وقت میرا موڈ پیپسی پر آیا ہوا تھا۔ اس لیئے میں نے سوچا کہ خان بھائی سے کہتی ہوں کہ وہ بازار سے مجھے پیپسی لا دے یہ سوچ کر میں نے اپنے پرس سے پیسے لیئے اور سرونٹ کوارٹر کی طر ف چل پڑی۔خان کا دروازہ کھلا ہوا تھا ، سو میں بے تکلفی سے اندر داخل ہو گئی۔۔ جیسے ہی میں دروازے سے اندر داخل ہوئی۔۔ تو میں یہ دیکھا کہ خان بھائی بیڈ کے کنارے پر بیٹھا تھا اس کا ایک ہاتھ شلوار کے اندر تھا ۔۔اس کی آنکھیں بند تھیں۔۔اور وہ اپنے اس ہاتھ کو بڑی تیزی سے اوپر نیچے کر رہا تھا۔اس وقت مجھے ان چیزوں کا اتنا زیادہ پتہ نہیں تھا۔اس لیئے خان کو ہاتھ ہلاتے دیکھ کر میں بڑی حیران ہوئی اور اس سے کہنے لگی۔

میں ۔۔۔ خان بھائی کیا ہوا؟

میری آواز سن کر وہ ایک دم سے چونک پڑا ۔۔اور اس نے اپنی آنکھیں کھولیں۔۔اور پھر مجھے اپنے کمرے میں دیکھ کر ایک لمحے کے لیئے وہ نروس سا ہو گیا۔۔لیکن اگلے ہی لمحے وہ سنبھل گیا۔

نارمل آواز میں بولا۔۔۔ کچھ نہیں رانی جی۔۔آپ بتاؤ کیسے آنا ہوا۔۔؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

 تب میں اس کی طر ف پیسے بڑھاتے ہوئے بولی۔۔۔ خان بھائی پلیز مجھے ٹھنڈی پیپسی لا دیں بڑی سخت پیاس لگی ہوئی ہے۔

اس کو پیسے دے کر میں واپس اپنے کمرے میں آ گئی۔۔ہمارے گھر سے مارکیٹ کا فاصلہ اتنا زیادہ نہ تھا سو تھوڑی ہی دیر میں خان بھائی۔۔۔پیپسی لے کر آ گئے۔۔یہاں میں ایک بات بتا دوں کہ میری شروع سے ہی عادت ہے کہ میں سرھانے کے اوپر کتاب رکھتی ہوں اور خود الٹی لیٹ کر پڑھتی ہوں ۔اس دن بھی جب خان بھائی میرے کمرے میں آیا تو حسب عادت میں نیم ڈوگی سٹائل میں لیٹی۔۔ کتاب پڑھ رہی تھی۔جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ عام طور پر میں گھر میں فٹنگ ٹراؤزر اور شرٹ پہنتی ہو۔۔اور آپ کو تو پتہ ہی ہے کہ میری گانڈ جو پہلے ہی کافی موٹی ہے ٹائیٹ ٹراؤزر میں بہت ہی نمایاں ہو جاتی ہے۔

ہاں تو میں کہہ رہی تھی کہ میں الٹی لیٹ کر پڑھنے میں مگن تھی کہ اتنے میں خان بھائی ٹھنڈی بوتل لے آیا۔۔اس کے ہاتھ میں بوتل دیکھ کر میں اس سے بولی۔

میں ۔۔۔خان بھائی بوتل ٹیبل پر رکھ کر آپ چلے جاؤ ۔

اتنا کہہ کر میں پھر پڑھنے میں مگن ہو گئی۔۔کچھ دیر کے بعد مجھےایسا محسوس ہوا کہ جیسے خان بھائی ابھی تک نہیں گیا ۔۔بلکہ وہیں کھڑا ہے۔۔ سو میں نے سر اُٹھا کر اس کی طرف دیکھا۔۔تو وہ یک ٹک مجھے ہی دیکھے جا رہا تھا۔

یہ دیکھ کر میں اس سے بولی ۔۔۔کیا بات ہے بھائی آپ ابھی تک گئے نہیں؟

میری بات سن کر وہ چپ رہا۔۔ اور میرے پاس بیڈ پر آ کر بیٹھ گیا۔

 یہ دیکھ کر میں تشویش سے بولی۔۔۔خیر تو ہے بھائی؟

لیکن وہ کچھ نہیں بولا اور اچانک اس نے اپنا ہاتھ میری گانڈ پر رکھ دیا۔۔جیسے ہی اس نے اپنے ہاتھ کو میری گانڈ پر رکھا میں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا تو اس کا چہرہ اور آنکھیں لال انگارہ ہو رہیں تھیں۔۔ وہ مجھے کچھ عجیب سا لگ رہا تھا اس کی یہ حالت دیکھ کر میں اندر سے ڈر گئی ۔

لیکن بظاہر سخت لہجے میں بولی۔۔۔ یہ کیا بدتمیزی ہے؟اپنے ہاتھ کو یہاں سے ہٹاؤ۔

لیکن اس نے ایسا نہیں کیا  تب میں غصے سے بولی ۔۔۔تم کو سنائی نہیں دے رہا ۔۔ اپنے ہاتھ کو یہاں سے ہٹاؤ ۔۔ورنہ ڈیڈ سے تمہاری شکایت کر دوں گی۔

میری اس بات کو بھی اس نے سنا ان سنا کر دیا۔۔یہ دیکھ کر مجھے اور بھی غصہ آ گیا اور میں نے اس کا پکڑ کر تیزی سے جھٹک دیا۔اور اسے گالی دیتے ہوئے بولی

میں۔۔۔ بدتمیز آدمی آ لینے دو ڈیڈی کو میں تم کو نوکری سے نکلوا دوں گی۔

 میری بات سن کر اچانک ہی وہ غصے میں آ گیا۔۔اور اس کے ساتھ ہی اس نے اپنے نیفے سے پستول نکال لیا۔۔ اس کے ہاتھ میں پستول دیکھ کر میری تو جان ہی نکل گئی۔

اس لیئے میں اس سے بولی ۔۔۔بھائی پلیز آپ جاؤ یہاں سے۔۔ورنہ۔۔

 ابھی میں نے اتنی ہی بات کی تھی کہ وہ پستول لہراتے ہوئے خوف ناک لہجے میں بولا۔۔۔خبردار۔۔اگر بولی تو۔۔ جان سے مار دوں گا۔

خان کا خوفناک لہجہ اور دھمکی سن کر میں بری طرح ڈر گئی۔اور کانپنا شروع ہو گئی۔

مجھے کانپتے دیکھ کر وہ تھوڑا نرمی سے بولا۔۔۔ اگر تم میرا کہنا مانتی رہی تو کچھ نہیں کہوں گا ۔۔ورنہ۔۔ تم جانتی ہو کہ میں کیا کر سکتا ہوں۔

اس پر میں تھر تھر کاپنتے ہوئے بولی۔۔۔ مجھے نہ مارنا پلیز تم جو کہو گے میں وہی کروں گی۔

 میری بات سن کر وہ مسکرا کر بولا ۔۔۔ یہ ہوئی نا بات۔۔۔۔۔

اتنا کہہ کر اس نے جلدی سے اپنی قمیض اتاری ۔۔قمیض اتارتے ہی میری نظر اس کی شلوار کی طرف گئی اور دیکھا۔۔ اس کی شلوار آگے سے تنمبو بنی ہوئی تھی ۔۔ اس کی دونوں ٹانگوں کے بیچ میں ایک موٹا لمبا سا ہتھیار اکڑا کھڑا تھا۔۔مجھے اپنے لن کی طرف دیکھتے ہوئے دیکھ کر  وہ آگے بڑھا اور اپنے اکڑے ہوئے ہتھیار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا

خان۔۔۔اس کو پکڑو۔۔

پہلے تو میں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔۔پھر جب اس کے مسلسل کہنے پر بھی جب میں نے اپنا ہاتھ اس کے اکڑے ہوئے ہتھیار کی طرف نہیں بڑھایا۔

تو وہ غصے سے بولا۔۔۔ پکڑ اسے۔۔

اس کے ساتھ ہی اس نے میرے ہاتھ کو پکڑ کر اپنے لنڈ پر رکھ دیا۔۔سو میں نے اس کے بڑے سے لنڈ کو اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا۔۔اس نے کچھ دیر تک لن کو پکڑائے رکھا اس دوران اسنے اپنی شلوار کا آزار بند کھولا اور شلوار اتار دی۔۔اب میری نظر اس کی دونوں ٹانگوں کے بیچ چلی گئی۔۔دیکھا تو اس کی ٹانگوں کے بیچوں و بیچ ۔۔ایک سرخ و سپید ۔۔ موٹا اور لمبا ہتھیار۔۔ بڑی شان سے اکڑا کھڑا تھا۔۔حیرت کی بات ہے کہ اس کے لنڈ کو دیکھ کر مجھے بہت اچھا لگا۔۔لیکن بظاہر میں کچھ نہ بولی۔

ایک تبصرہ شائع کریں (0)
جدید تر اس سے پرانی