میں ۔۔میرا شوہر۔۔اور وہ ۔۔

 


میں شمائلہ ہوں، پینتیس سال کی، گوری چٹی، بھاری جسم والی پنجابن۔ میرے بوبے اڑتیس سائز کے ہیں، برا میں بھی سنبھالے نہیں جاتے۔ کولہے بہت بڑے اور تھر تھر کرتے ہیں، اس لیے ٹائٹ انڈرویئر پہنتی ہوں تاکہ ہلتے ہوئے نظر نہ آئیں۔ ایک مڈل کلاس گھرانے سے ہوں۔ آج آپ کو اپنی سچی کہانی سناتی ہوں۔

میرا شوہر بہت سیکسی ہے۔ رات کو ہم سیکس کرتے ہوئے پورن کلپس بھی دیکھتے ہیں۔ وہ ان کلپس کی نقل کرتے ہوئے مجھے چودتا ہے۔ شروع میں مجھے یہ بات بری لگتی تھی، لیکن آہستہ آہستہ عادی ہو گئی۔ پھر میرا دھیان کلپس میں لڑکوں کے لن پر جانے لگا؛ کوئی موٹا، کوئی پتلا، کسی کی ٹائمنگ لمبی، کسی کی کم۔

ایک دن شوہر نے کالے مردوں کے کلپس دکھانے شروع کر دیے، جو سفید عورتوں کی پھدیاں پھاڑ رہے ہوتے تھے۔ پہلے تو مجھے بالکل پسند نہ آیا، لیکن وقت گزرتے گزرتے میں ان کے لن کی طاقت اور سٹیمنا سے متاثر ہو گئی۔ کئی بار شوہر کلپ لگا کر زور زور سے مجھے چودتا اور میں خیالوں میں سوچتی کہ وہی کالا مجھے چود رہا ہے۔

ایک رات اسی طرح کلپ دیکھتے ہوئے شوہر بولا، ”شمائلہ، میری قسم، سچی بتا… ان کالوں کا لن دیکھ کر دل نہیں چاہتا کہ کوئی تجھے ایسے چودے؟“
میں شرمائی، پھر بولی، ”ہاں، دل تو کرتا ہے کہ ایسا موٹا لمبا لن ملے اور ایسی چدائی ہو… لیکن وہ لن آپ کا ہی ہو۔“

شوہر ہنس پڑا اور بولا، ”اگر وہ کالا تیری چوت میں ڈالے تو؟“
کلپ میں میرا فیورٹ کالا تھا، بارہ انچ کا وحشی لن۔ میں خاموش رہی۔ شوہر نے پھر پوچھا، ”بتا نا، چدوانا چاہتی ہے اس سے؟“
میں گرم ہو چکی تھی، شرماتے ہوئے بولی، ”جان، اگر آپ کو برا نہ لگے تو… اس کا لن ضرور لینا چاہتی ہوں۔ گھوڑی بنا کر چودے، میری چوت پھاڑ دے، دو دو گھنٹے چدائی کرے۔“

میں فل گرم ہو گئی تھی۔ شوہر نے کلپ چلاتے ہوئے میری پھدی میں انگلیاں ڈالنا شروع کر دیں۔ ایک، دو، پھر تین انگلیاں۔ میں پاگل ہو رہی تھی۔ بولی، ”جان، قسم سے اس وقت کوئی بھی لن ہو، اتنا بڑا، اتنا موٹا… آپ کے سامنے ہی لے لوں تو کہنا!“
شوہر بولا، ”کسی کا بھی؟“
میں بولی، ”جی، بس ایسا ہی ہو… آپ کے سامنے گھوڑی بن جاؤں گی۔“

شوہر نے کہا، ”میرا دوست سلیم ہے نا، اس کا لن لو گی؟“
میں اس وقت اتنی گرم تھی کہ بولی، ”بلالو نا، پھدی پھاڑ دے گا… کالا باہر نہیں آسکتا تو اسی کو بلا لو!“
شوہر اٹھا، کچن سے ایک موٹا لمبا کھیرا لایا اور بولا، ”آج اس سے گزارہ کر لو، کل سلیم چودے گا۔“

میں نے کھیرا پکڑ کر چوت پر رگڑنا شروع کر دیا۔ شوہر نے پکڑ کر آہستہ آہستہ اندر کرنا شروع کیا۔ کھیرا شوہر کے لن سے کہیں زیادہ موٹا اور سخت تھا۔ میں چیخی، ”جان، پھٹ گئی… بہت موٹا ہے!“
شوہر بولا، ”کالے جیسا ہے نا؟“
میں بولی، ”بالکل ویسا ہی!“

پھر شوہر نے کلپ کے ساتھ ساتھ ویسے ہی جھٹکے مارنے شروع کر دیے۔ جیسے ہی سپیڈ تیز ہوئی، میں چیختے سسکتے فارغ ہو گئی۔ کھیرا نکالا تو چوت سے سفید مادہ بہت زیادہ نکلا۔ میں تیز تیز سانس لیتے ہوئے لیٹ گئی۔ شوہر نے میرے ممے چھوتے ہوئے پوچھا، ”پہلی بار ایسا لیا، کیسا لگا؟“
میں بولی، ”بہت زبردست، مزہ آیا۔“
شوہر بولا، ”تو کل سلیم کو بلا لوں؟“
میں اچانک ہوش میں آئی اور بولی، ”نہ سلیم، نہ کھیرا۔ درد ہو رہا ہے۔ وہ باتیں تو بس سیکس بڑھانے کو کی تھیں۔“

ایک دو مہینہ گزر گیا۔ ہم نے سیکس کیا، لیکن نہ کلپ دیکھے، نہ کھیرا۔ پھر ایک دن دوپہر کو میں تنہا موبائل پر سرچ کر رہی تھی تو وہی سائٹ مل گئی جو شوہر استعمال کرتا تھا۔ میرا فیورٹ کالا نظر آیا۔ کمرہ بند کر کے کلپ دیکھنے لگی۔ گرم ہو گئی، چوت سے کھیلنے لگی۔ دل کیا کہ اب کھیرا نہیں، اصلی لن چاہیے، موٹا اور لمبا۔

مجھے یاد آئی ایک پرانی سہیلی، جو شادی کے بعد بھی دوسرے مرد سے چکر چلا رہی تھی۔ اس سے رابطہ بحال کیا۔ کچھ دن بات چیت کے بعد پوچھا، ”اب بھی وہ چل رہا ہے؟“
وہ ہنسی اور بولی، ”چھوڑنے والی نہیں۔ بہت زبردست چودتا ہے۔“
میں نے اسے وہی کالا کلپ بھیجا اور پوچھا، ”ایسا ہے اس کا؟“
وہ بولی، ”لمبائی نو انچ، موٹائی ویسی ہی۔ یہ بارہ انچ کا ہے، میرا نو کا۔ لیکن مزہ ویسا ہی۔“
میں بولی، ”یار، اگر تجھے منظور ہو تو میں بھی تیرے دوست سے ایک بار لینا چاہتی ہوں۔“
وہ بولی، ”کل میرے گھر آجانا۔“

اگلے دن پھدی اور انڈرآرمز کے بال صاف کر کے سہیلی کے گھر پہنچی۔ تھوڑی دیر بعد وہ آیا، شیراز۔ چھ فٹ تین انچ، چوڑا سینہ، گندمی رنگ، نیلی شلوار قمیض میں شہزادہ لگ رہا تھا۔ میری تو دیکھتے ہی سیٹی گم ہو گئی۔

سہیلی نے تعارف کرایا، ”شیراز، یہ شمائلہ۔ آج تک شوہر کے علاوہ کسی نے ہاتھ نہیں لگایا۔ آج تم اسے وہ دنیا دکھاؤ جو مجھے دکھاتے ہو۔“
شیراز بولا، ”تم بعد میں آنا، پہلے شرم توڑوں۔“

اس نے میرا بازو پکڑ کر کمرہ لے گیا، دروازہ بند کیا، کنڈی نہیں لگائی۔ مجھے بانہوں میں بھر لیا۔ میری سانس تیز، جسم میں کرنٹ۔ اس نے چہرہ اوپر کیا، میں نے آنکھیں بند کر لیں۔ بولا، ”آنکھیں کھولو، حقیقت سے بھاگو مت۔ آج تمہاری پھدی دوسرا لن لینے والی ہے۔ شوہر کا چھ انچ سے زیادہ نہیں ہوگا، آج نو انچ موٹا لن پھاڑے گا۔“

میں نے شرماتے ہوئے آنکھیں کھولیں۔ وہ خوبصورت مرد میری طرف دیکھ رہا تھا۔ اس نے لپسکسنگ شروع کر دی۔ میں بھی ساتھ دینے لگی۔ اس نے میری شلوار گھٹنوں تک نیچے کی، انڈرویئر کے اندر سے چوتڑ دبانے لگا۔ اس کا کھڑا لن میری پیٹ سے لگ رہا تھا۔ پھر قمیض اور بنیان اتار دی۔ اس کا بالوں بھرا سینہ دیکھ کر پاگل ہو گئی۔

اس نے کہا، ”میری شلوار کھولو۔“
نادہ کھولا تو نو انچ کا موٹا لن سلامی دے رہا تھا۔ ٹوپا سب سے موٹا۔ میں ڈر گئی۔ اس نے لن گھما کر بولا، ”یہ ٹوپا پھدیوں کو دوسروں کے قابل نہیں چھوڑتا۔“

میں نے ہاتھ میں پکڑا تو کرنٹ لگ گیا۔ سخت ڈنڈا سا۔ میں مٹھ مارنے لگی۔ اس نے برا بھی اتار دی۔ اب ہم دونوں ننگے۔ اس نے مجھے گود میں اٹھایا، بیڈ پر لٹایا، پورا جسم چاٹا، پھر پھدی چاٹنے لگا۔ میں اس کا سر دبانے لگی۔ پھر ٹانگیں کندھوں پر رکھ کر لن رگڑنے لگا۔ میں بولی، ”اب ڈال دو، تیار ہے۔“

ٹوپا اندر گیا تو چیخ نکل گئی۔ پہلی انٹری پر ہی فارغ ہو گئی۔ اس نے آدھا لن نکال کر صاف کیا، پھر پورا نو انچ گاڑ دیا۔ درد سے رو رہی تھی، لیکن آہستہ آہستہ مزہ آنے لگا۔ اس نے سپیڈ بڑھائی تو دوسری بار فارغ ہوئی۔

اتنے میں سہیلی اندر آئی، بولی، ”شیراز، اس پھدی کو شوہر کے قابل مت چھوڑنا، زور سے چودو!“
شیراز نے سپیڈ اور بڑھا دی۔ کمرہ ٹھپ ٹھپ، سسکیوں اور میری چیخوں سے بھر گیا۔ پھر ڈاگل اسٹائل، پھر ڈاگی، پھر میں اوپر سواری۔ ہر پوزیشن میں پھدی پھٹتی رہی اور مزہ بھی بڑھتا گیا۔ آخر میں پرون اسٹائل میں اس نے میری کمر پر پورا وزن رکھ کر زور زور سے جھٹکے مارے اور سات آٹھ پچکاریاں میری بچہ دانی میں چھوڑ دیں۔

وہ میرے اوپر لیٹا رہا، منی بہہ رہی تھی۔ پھر اٹھا، سہیلی کو چودنے لگا۔ دس منٹ بعد واپس آیا، میری ٹانگیں کھینچ کر دوبارہ چودا اور پندرہ منٹ میں دوسری بار میری چوت منی سے بھر دی۔

ہم تینوں ننگے کافی دیر لیٹے رہے۔ جب اٹھی تو چل نہیں پا رہی تھی۔ شیراز نے گلے لگایا اور بولا، ”شوہر کے سامنے بھی کرواؤ گی؟“
میں بولی، ”کوشش کروں گی۔“

گھر آئی تو نہا کر سو گئی۔ رات کو شوہر نے چودنے کی کوشش کی تو منع کر دیا۔ کچھ دن بعد ایک رات کلپ دیکھاتے ہوئے شوہر بولا، ”آج چوت بہت ڈھیلی لگ رہی ہے۔“
میں بولی، ”جب تم کالوں والے کلپ دکھاؤ گے تو کوئی نہ کوئی نکل کر چودے گا ہی۔“
شوہر ہنس پڑا، ”سلیم نے چود دیا؟“
میں بولی، ”نہیں، شیراز نے۔ نو انچ، تمہارے کالوں جیسا موٹا۔“

شوہر نے پورا قصہ سنا، مٹھ مارتے مارتے فارغ ہو گیا، پھر مجھ سے لپٹ کر بولا، ”مزہ آیا ہوگا نا؟“
میں بولی، ”بہت۔ اب سلیم کی بجائے شیراز ہی ٹھیک ہے۔“
شوہر بولا، ”تو اسے بلا لو۔“

تین دن بعد شیراز آیا۔ شوہر سامنے بیٹھا دیکھتا رہا۔ شیراز نے میری چوت خوب پھاڑی۔ شوہر اس کے لن کو دیکھ کر بولا، ”یار، سلیم سے بھی تگڑا ہے۔“
میں بولی، ”اب بس شیراز ہی چلے گا۔“

میرے شوہر فوری بولے یار اب تو صبر نہیں ہوتا ۔۔مجھے شیراز کے موٹے لن سے تمہیں چدتے ہوئے دیکھنا ہے ۔۔تم اسے کل رات ہی بلالو ۔۔یہ سن کر میں خوشی سے پاگل ہوگئی ۔۔

تین دن بعد وہ دن آ گیا جس کا مجھے اور شوہر کو بے صبری سے انتظار تھا۔
شیراز شام سات بجے گھر آیا۔ میں نے سرخ رنگ کی ٹائٹ شلوار قمیض پہنی تھی، برا کے اندر اٹھائیس سائز کے بوبوں کو مشکل سے سنبھال رکھا تھا، اور نیچے صرف ایک پتلی سی ساٹن کی پینٹی۔ شوہر نے دروازہ کھولا اور شیراز کو گلے لگایا، جیسے بہت پرانا یار ہو۔

ہال میں بیٹھ کر تینوں نے چائے پی۔ شوہر نے خود ہی بات شروع کی،
”یار شیراز، شمائلہ نے سارا قصہ بتا دیا۔ تمہارا لن دیکھنے کو جی چاہ رہا تھا۔ آج اپنی آنکھوں سے دیکھوں گا کہ میری بیوی کو کیسے پھاڑتے ہو۔“
شیراز مسکرایا، ”آج آپ کو لائیو شو دکھاتا ہوں، سر۔ بس آپ آرام سے بیٹھیں، کیمرہ بھی لگا لوں؟“
شوہر ہنس پڑا، ”نہیں یار، بس آنکھیں کھلی رکھنا کافی ہے۔“

پھر شوہر نے میری طرف دیکھا اور بولا، ”شمائلہ، جا کر تیار ہو جا۔ آج تیرے لیے خاص رات ہے۔“
میں شرم سے لال ہو گئی، لیکن اندر سے پھدی پہلے ہی گیلی ہو رہی تھی۔

بیڈ روم میں داخل ہوئے تو شوہر نے کرسی لے کر بیڈ کے سامنے رکھ لی، اور خود بیٹھ گیا۔ شیراز نے لائٹس ہلکی کر دیں، صرف بیڈ والی سائیڈ لائٹ جل رہی تھی۔ اس نے مجھے دیوار سے لگایا، شوہر کے سامنے ہی میرا منہ اپنی طرف کیا اور گہری لپس کسنگ شروع کر دی۔ اس کے ہونٹ، اس کی زبان، اس کی گرم سانس… میں ایک دم بہک گئی۔

شیراز نے میری قمیض اوپر اٹھائی اور برا سمیت بوبے باہر نکال دیے۔ شوہر کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں جب شیراز نے میرے دونوں ممے زور زور سے دبانا اور چوسنا شروع کیا۔ میں سسکاریاں لے رہی رہی تھی، ”آہہہ… شیراز… آہستہ…“
شوہر کی سانس تیز ہو رہی تھی، وہ خاموشی سے دیکھ رہا تھا، ہاتھ اس کی پینٹ پر تھا۔

شیراز نے میری شلوار ایک جھٹکے میں نیچے کر دی۔ اب میں صرف پینٹی میں تھی۔ اس نے مجھے گھما کر شوہر کی طرف منہ کر کے کھڑا کیا، خود میرے پیچھے آیا، پینٹی انڈرویئر سمیت نیچے سرکا دی اور میری گانڈ شوہر کو دکھاتے ہوئے بولا،
”دیکھیں سر، یہ خوبصورت  گانڈ آج پوری طرح میری ہے۔“ اور میری گوری ملائم گانڈ کو بے تحاشہ چومنے لگا۔۔میں مستی سے فل پاگل ہونے لگی ۔۔
پھر اس نے میری ٹانگیں پھیلائیں اور شوہر کے سامنے ہی میری پھدی پر انگلی پھیرتے ہوئے بولا، ”سر، یہ چوت آج نو انچ کھانے والی ہے۔“

شوہر کی آنکھوں میں چمک تھی، وہ بس سر ہلایا۔

شیراز نے اپنی قمیض اور شلوار اتار دی۔ جب اس کا نو انچ کا موٹا لن باہر آیا تو شوہر کے منہ سے بے ساختہ نکلا،
”یار… یہ تو واقعی وحشی ہے!“
شیراز نے لن کو ہاتھ میں پکڑ کر گھمایا اور بولا، ”آج آپ کی بیوی اسی کے نیچے چیخے گی۔“

اس نے مجھے بیڈ پر لٹایا، ٹانگیں کندھوں پر رکھیں اور شوہر کے سامنے ہی لن پھدی پر رگڑنے لگا۔ میں شرم اور جوش سے پاگل ہو رہی تھی۔ بولی، ”شیراز… ڈال دو… شوہر دیکھ رہے ہیں… جلدی کرو…“
شیراز نے ایک زور دار جھٹکا مارا، ٹوپا اندر چلا گیا۔ میری چیخ نکل گئی، ”آآآئییی… مر گئی…!“
شوہر اٹھ کر قریب آ گیا، میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا، ”شمائلہ، مزہ لے… آج تیرا شوہر تیری چیخیں سننا چاہتا ہے۔“

شیراز نے پورا لن ایک ہی دھکے میں اندر گھسا دیا۔ میری کمر اچک گئی، آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ شوہر میرا ہاتھ پکڑے بیٹھا تھا، میری ہتھیلی دبا رہا تھا۔ شیراز نے سلو شروع کیا، ہر جھٹکے کے ساتھ میری چیخیں نکل رہی تھیں،
”آہہہ… شیراز… پھاڑ دیا… اوہہہ… بہت موٹا ہے…!“
شوہر بولا، ”ہاں میری جان، چیخ… آج تیرے لیے ہی تو لایا ہوں اسے۔“

شیراز نے سپیڈ بڑھائی۔ ٹھپ ٹھپ ٹھپ کی آوازیں پورے کمرے میں گونج رہی تھیں۔ شوہر نے میرا دوسرا ہاتھ پکڑا اور اپنی پینٹ کھول کر لن باہر نکال لیا، خود مٹھ مارنے لگا۔
شیراز بولا، ”سر، آپ کی بیوی کی چوت بہت ٹائٹ ہے، لیکن آج ڈھیلی کر کے جاؤں گا۔“

پھر اس نے مجھے گھوڑی بنایا۔ شوہر کرسی چھوڑ کر بیڈ کے قریب کھڑا ہو گیا۔ شیراز نے میری کمر دبا کر ڈاگی اسٹائل میں زور زور سے ٹھوکنا شروع کر دیا۔ میری گانڈ ہر جھٹکے پر ہل رہی تھی۔ میں چیخ رہی تھی،
”شیراز… ہاں… زور سے… شوہر دیکھ رہے ہیں… پھاڑ دو آج میری چوت…!“
شوہر کے منہ سے نکلا، ”واہ یار… میری بیوی گھوڑی بن گئی…!“

شیراز نے مجھے الٹا لٹایا، ٹانگیں کندھوں پر رکھ کر مشینری اسٹائل میں چودنے لگا۔ شوہر میرے سرہانے بیٹھ گیا، میرا منہ اپنی طرف کیا اور اپنا لن میرے منہ میں دے دیا۔ میں شوہر کا لن چوس رہی تھی اور پیچھے سے شیراز میری چوت پھاڑ رہا تھا۔
شیراز بولا، ”سر، آپ کی بیوی دونوں طرف سے لن لے رہی ہے…!“
شوہر بولا، ”ہاں یار… آج میری بیوی اصلی مرد کے نیچے ہے…!“

آخر میں شیراز نے مجھے پرون پوزیشن میں لٹایا، میری کمر پر چڑھا، پورا وزن ڈال کر زور زور سے جھٹکے مارنے لگا۔ میں چیخے جا رہی تھی،
”شیراز… مر گئی… پھاڑ دی… اوہہہ… شوہر… دیکھ… تیرا دوست تیری بیوی کو پھاڑ رہا ہے…!“
شوہر میرے بال پکڑ کر بولا، ”ہاں بیوی، چیخ… آج تیرے لیے ہی تو ہے سب…!“

شیراز نے سات آٹھ زور دار پچکاریاں میری بچہ دانی میں چھوڑیں۔ میری چوت سے منی بہہ رہی تھی۔ وہ میرے اوپر لیٹ گیا۔ شوہر قریب آیا، میری پھدی دیکھی اور بولا، ”یار، واقعی پھاڑ دی ہے… اب یہ چوت صرف تیری ہے۔“

پھر شوہر نے خود شیراز کا لن منہ میں لیا، صاف کیا، اور بولا، ”شکریہ یار، میری بیوی کو عورت بنا دیا تُو نے۔“

اس رات شیراز نے مجھے شوہر کے سامنے چار راؤنڈ چودا۔ ہر راؤنڈ میں شوہر قریب بیٹھا دیکھتا رہا، کبھی میرا منہ چودتا، کبھی خود مٹھ مارتا۔ جب شیراز گیا تو میری ٹانگیں کانپ رہی تھیں، چل نہیں پا رہی تھی۔ شوہر مجھے گود میں اٹھا کر واش روم لے گیا، نہلایا، اور بولا،

”اب سے شیراز جب مرضی آئے گا، اور جب تک مرضی چاہے گا تیری چوت مارے گا، سمجھی؟“
میں نے ہنستے ہوئے سر ہلایا، ”جی جان… اب میری چوت اسی کی ہے۔“

اب تو شیراز ہفتے میں دو تین بار آتا ہے، اور شوہر ہمیشہشا سامنے بیٹھ کر لائیو شو دیکھتا ہے۔
کبھی کبھی تو وہ خود کیمرہ اٹھا لیتا ہے اور قریب سے شوٹ کرتا ہے کہ میری چیخیں، میری گانڈ کی تھپ تھپ، اور شیراز کا نو انچ کا لن میری چوت میں اندر باہر ہوتا ہوا صاف نظر آئے۔

اب تو میری زندگی کا سب سے بڑا مزہ یہ ہے کہ شوہر کے سامنے گھوڑی بنوں اور شیراز کی طرح طرح سے میری چوت پھاڑتا رہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں (0)
جدید تر اس سے پرانی