جی آنٹی آپ نے درست کہا
“اور اپنے گھر والوں کو تم نے یہ بات سمجھانی ھے “
“ٹھیک ہے آنٹی میں سمجھ گیا”
“بیٹا کھانا کھا کے نا اکرم کے ساتھ جاو اور گاڑی میں سیٹیں بک کرالو کیوں کہ عین ٹائم پر سیت ملنی مشکل ہو جاتی ہے”
“اور سائرہ بیٹی تم دل چھوٹا نا کرو قسمت نے ساھ دیا تو اس سے اچھا رشتہ ملے گا”
“نہیں آنٹی میری جوتی کو بھی ان کی پروا نہیں ہے”
کھانا کھانے کے بعد میں اکرم کو لیکے اڈے پر چلا گیا دو سیٹیں بک کیں زات گیارہ بجے والی گاڑی پر اس کے بعد ھم واپس گھر آگئے وہاں سب بیٹھے چائے پی رہے تھے آنٹی نے چائے دی
“بیٹا یہ آپ لوگوں کااپنا گھر ہے تم لوگوں کو بھجوانے کو دل تونہیں کر رہا ہے لیکن وہاں تمھاری امی پریشان ہورہی ہونگی پھر جب دل کرے آجانا ویسے میں بھی چکر لگاونگی اس دوران ھم نے چائے ختم کی اور ان کےساتھ گپ شپ لگانے لگےانٹی کی فیملی بھی چھ افراد پر مشتمل ہے اس کا خاوند فوج میں ہے اس کی تین بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے تھوڑی دیر بعد ھم یوں گھل مل گئے جیسے ایک ہی گھر افراد ہوتے ہیں آنٹی کی درمیان والی بیٹی سب سے خوب صورت ہے میں اس کی طرف چوری چوری دیکھتا جب وہ مجھے اپنی طرف متوجھ پاتی ایک دلفریب مسکراہٹ سے مجھے نواز دیتی جب اس نے اپنے آپ میری دلچسپی دیکھی تو میری طرف مائل ہونے لگی بات بات پہ میرے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے لگی اس کی ہنسی بڑی دل کش ہے اس نے پنک کلر کا میچنگ خوبصورت سوٹ پہنا ہوا تھا جس سے وہ میرے دل پر اور قیامت ڈھا رہی تھی
فائزہ جی آپکاسوٹ بہت خوب صورت ہے میں نے کہا
صرف سوٹ؟ اس نے شوخی سے کہا
ارے میرا مطلب ہے سوٹ آپ نے پہنا ہے تو اس لیئے خوب صورت لگ رہا ہے میری بات سن سب ہنس پڑے لیکن اس کی ہنسی میرے دل کا چین لوٹ رہی تھی میری والہانہ نگاھیں اس کے چہرے کا طواف کررہی تھیں باجی نے میری وارفتگی نوٹ کی تو اس نے مجھے ٹہوکا دیا میں نے بےاختیار نظریں ہٹالیں اور ہم ادھر ادھر کی باتوں میں مصروف ہوگئے
صائمہ تم سائرہ کے ساتھ پیکنگ میں مدد کرو آنٹی نے صائمہ کو ہدایت کی اور مجھ سے کہا بیٹا میں نائلہ کے ساتھ ذرا ان کے ماموں کی عیادت کو جارہی ہوں
ٹھیک ہے آنٹی اور وہ نائلہ کو لیکر چلی گئ اکرم بھی ادھر ادھر ہو گیا میں فائزہ کے ساتھ اکیلا رہ گیا میں اٹھ کے اس کے قریب کرسی پر بیٹھ گیا میں نے کہا ایک بات کہوں آپ ناراض تو نہیں ہونگی میں نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ پر رکھ دیا
نہیں میں بھلا آپ سے کیوں ناراض ہوں گی بلاجھجک کہیں اس نے اپنا ہاتھ چھڑا نے کوشش نہیں کی جس سے میرا حوصلہ بڑھ گیا فائزہ جی آئ لو یو میں نے بلا جھجک کہہ دیا اس نے شرما کرچہرہ دوسی طرف کرلیا اور آہستگی اپنا ہاتھ میرے ہاتھ کے نیچے سے نکالا اور کرسی اٹھ گئ میں نے کہا فائزہ جی کیا تم مجھ سے پیار کرتی ہو
“ہاں”
اور اندر کی طرف بھاگ گئ مجھے اپنی منزل مل گئ مجھے اس پر ڈھیروں پیار ایا میں اٹھ کے کمرے کمرے کے اندر گیا جہاں صائمہ باجی کے ساتھ پیکنگ میں ہیلپ کررہی تھی شہزاد امی کے ساتھ بات یہاں سے فون پر کروگے یا گھر جا کے باجی نے مجھ س پوچھا
نہیں وہاں جاکے بات کروں گا لیکن جیسے میں کہونگا ویسے آپ نے کرنا ہے باجی نے اثبات میں سر ہلا دیا تھوڑی دیر اسی موضوع پربات کرکے میں وہاں سے نکل آیا کچن میں سے کھڑ پڑ کی آوازیں سن کر میں نے جا کےکچن میں جھانک کر دیکھا تو میری جان من برتن دھوتی نظرآئ میری تو عید ہوگئ میں چپکے سے اندر داخل ہوگیا اور جاکے پیچھے سے جپھی ڈالی ا
وہ اچھل پڑی مڑ کر مجھے دیکھا تو اس کی جان میں جان آئ
اوہ! تم چھوڑو مجھے کوئ دیکھ لے گا وہ کسمسائ دکھنا ہے تو دیکھنے دو میں تو نہیں چھوڑنے والا میں نےہلکا سا جھٹکا دےکے بازوں کا حصار اور ٹائیٹ کیا جس سے اس کی گانڈ میرے لن کے ساتھ ٹچ ہوگئ اور میرا لن آہستہ آہستہ اٹھنے لگا جس کو اس نے بھی محسوس کیا کیوں کہ لن دراڑھ مچھبنے لگا اسنے چھڑانے کوشش ترک کردی اور میں نے اس کی گردن کا بوسہ لیا تو اس پر بھی مستی چھانے لگی
کیا واقعی میں بہت خوب صورت ہوں اس نے مستی بھرے لہجے میں پوچھا میں نے یک دم ہاتھوں کے حصار سے آزاد کیا اور اپنی طرف گھما کے سینے سے لگا کے کہا میری جان تم میری آنکھوں سے اپنے آپ کو تو میرے دل میں جو کچھ ہے وہ جان لو پھر اس نے منت بھرے لہجے میں کہا پلیز چھوڑدو کسی نے دیکھ لیا تو قیامت آجائے گی
ایک شرط پر چھوڑوںگا میرے کان میں کہہ دو آئ لو یو تواس کو شرارت سوجھی اسنے کہا اوکے پھر اپنا منہ کان کے پاس لےجاکے اہستہ سے میرےکان پر کاٹ لیا
اب تو اس کا بدلہ میں لوں گا نہیں تو نہیں چھوڑوںگا
تو اس نے کہا کیا بدلہ میں نے کہا لے لوں تو اس نے ہاں میں سر ہلا دیا تو میں ایک دم سے اپنے ہونٹ اس کے گلاب کے پنکھڑیوں جیسے ہونٹوں پر رکھ دیے وہ تھوڑی سی کانپی لیکن پھر پر سکون ہوگئ ایک لمبی کس کےبعد میں نے اس کو چھوڑ دیا
بڑے بدمعاش ہو تم اس نے شوخی سے بھر پور لہجے میں کہا اور ہنس پڑی
اب جاو تم اس نے کہا اور میں بھی ہنستا ہوا باہر آگیا جیسے ہی میں باہر آیا تو ادھر دروازے سےآنٹی اندر داخل ہورہی تھی اس نے مجھے کچن سے باہر آتے ہوئے دیکھ لیا میری تو بنڈ پھٹ کے ہاتھ میں آگئ۔
کیا ہورہا ہے بیٹا آنٹی کی نرم آواز میرےکانوں میں پڑی تو جان میں جان آئی میں نےکہاآنٹی اکرم کودیکھ رہا تھا پتہ نہیں کہاں چلا گیا فائزہ برتن دھورہی ہے اس سے پوچھنے گیاتھا تو آنٹی نےکہا آجائے گا یہیں کہیں ہوگا پھر میں آنٹی کے ساتھ بڑے کمرے میں جاکےبیٹھ گیا تھوڑی دیر بعدفائزہ بھی آگئی سب بیٹھ کےگپ شپ لگانے لگے کافی دیر کےبعدآنٹی نے اپنی بیٹیوں سے کہا اے لڑکیو تم لوگ تو بیٹھ کے گپیں ہانک رہے ہو کھانے پکانے کی بھی کوئی فکر ہے کہ نہیں ٹائم دیکھوشام ہونےوالی ہے فائزہ نے مجھے مخاطب کرکے کہا ہاں تو جناب کھانے کیلئے کیاپکائیں پالک مبارک یا کدوشریف یا بھنڈی نقشبندی یاپھر آلوصاحب میں نے کہا مجھ جیسا گنہگار ان کےکھانے کے قابل تو نہیں البتہ کوئی بےغیرت اوارہ سا مرغا ذبح کرکے پکالیں میرے اس جواب پر جیسے ہنسی کا فوارہ پھوٹ پڑا ہو سب بےتحاشہ ہنس پڑے فائزہ تو جیسے دل کی گہرائی سے ہنس رہی تھی امی میں نے وہ آپ کو ساس داماد والاجوک سنایا تھانا انہوں آج پریکٹیکل میں سنا دیا ہے صائمہ نے ہنستے ہوئے کہا آنٹی بھی ہنس رہی تھی ہاں میں سمجھ گئی ہوں آنٹی نے کہا