تب ہی باجی نے کہا بھابھی سر درد سے کچھ آرام آیا بھابھی نے کہاکہ ہاں اب کافی بہتر ہوں پھر بولی کسی چیز کی جلنے کی بو ہے آپ لوگوں نے کوئی چیز جلائی ہے؟ باجی نے کہاکہ یہ آپ کا لاڈلا دیور ہے نا ماچس کی تیلیاں جلا رہا تھا بھابھی نے نفی میں سر ہلایا اور کہاکہ نہیں کپڑے جلنے کی بو ہے باجی میری طرف دیکھ کے ہلکی سی مسکرائی جیسے کہہ رہی ہو کہ تمہارا ٹوٹکہ تو واقعی کمال کا ہے میں نے جلدی سے کہا بھابھی دراصل باجی نے میرے لیے چائے گرم کی تو کیتلی کے نیچے کپڑے کا چھوٹا سا ٹکڑا چپکا ہوا تھا اسی کے جلنے کی بو آپ نے محسوس کی واقعی آپ نے صحیح بو پہچان لی باجی نےبھی سر ہلایا اور کہا ہاں مجھے بھی محسوس ہوئی لیکن میں سمجھ نہیں پارہی کہ کس چیز کی بو ہے کیونکہ بھائی نے ماچس کی کچھ تیلیاں بھی جلائی ہیں میں سمجھی کہ ماچس کی بو ہے وہ دیکھیں نیچے پڑی ہوئی ہیں تب بھابھی نے کہا چائے اور ہے؟ باجی نےہاں میں سر ہلایا اور کہا اوہ بھابھی آپ نے وہیں سے آواز دی ہوتی تو میں لے کہ آجاتی آپ نے کیوں تکلیف کی آنے کی بھابھی بولیں نہیں ایسی کوئی بات نہیں میں نے سوچا کہ تھوڑی سی چائے پی لوں تو سکوں مل جائےگا پھر باجی نے بھابھی کو چائےگرم کرکے دی بھابھی چائے پیتے ہوئے بولی سائرہ تمہارے کوئی کپڑے میلے ہوں تو دے دو میں نے ابھی سب کے کپڑے دھونے ہیں باجی نے کہاکہ میرے میلے کپڑے نہیں ہیں آنٹی کے گھر میں دھولیےتھے بھابھی باجی کے ساتھ باتیں کررہی تھی جبکہ میں موڑھے پر چپک کے بیٹھا ہوا تھا میں موڑھےسے اٹھنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتا تھا کہ کہیں بھابھی باجی کی منی کی بو نہ سونگھ لے کیونکہ موڑھے سے جب باجی اٹھیں تو موڑھے کی سیٹ پر باجی کی چوت سےمنی کافی بہہ گئی تھی بھابھی چائے پی کر چلی گئی تب میری جان میں جان آئی میں نے اٹھ کے موڑھے کی سیٹ کو دیکھا توصرف گیلا تھا ساری منی میری شلوار نے جذب کرلی تھی میں نے شلوار کی سوکھے جگہ سے موڑھے کو خشک کیا میری شلوار کافی گیلی ہوگئی تھی یہ تو غنیمت تھا کہ قمیص کے دامن کے نیچےگیلی جگہ چھپ گئی تھی یہ اچھا ہوا کہ باجی کو میں نے موڑھے پر بٹھا دیا تھا نہیں تو باجی کی شلوار شائد نیچے گٹوں تک گیلی ہوجاتی اور پھر اس کے بعد ؟میں نے سوچنا ہی چھوڑ دیا اس دوران باجی میرے قریب آگئی میں نے باجی کو بانہوں بھر لیا اس نے میرے ہونٹوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دیے ایک لمبی کس کےبعد باجی نے میرے کان کے قریب سرگوشی کی یو آر گریٹ اور مجھے زور سے بھینچ لیا میرے لن نے سر اٹھایا اور باجی کی رانوں میں راستہ ڈھونڈنے لگا باجی نے جیسے ہی میرے لن کو محسوس کیا اس نے ہاتھ بڑھا کر پکڑ لیا اور پکڑ کے سہلانے لگی مجھے بہت مزہ آرہاتھا دل نے تمنا کی کہ باجی ہمیشہ کیلیے اسی طرح میرے لن کو پکڑکے سہلاتی رہے میں نے کہا باجی ایسا نہ ہو کہ بھابھی پھر نہ آجائے میں جا کے غسل کرتاہوں آپ کچن کا کام ختم کرلیں رات کو پھر ملیں گے اور آہستگی سے باجی سے الگ ہوگیا باجی نے اثبات میں سر ہلادیا اور میں وہاں سے نکل کے اپنے کمرے میں آیا دیوارگیر سے صاف استری شدہ کپڑوں کا جوڑا لےکے سیدھا باتھ روم میں گھس گیا نہادھوکے باہر آیا تو باجی کمرے کی طرف آتی دکھائی دی جب باجی میرے قریب آئی میں نے کہا باجی میں نے تو کپڑے چینج کرلیے اور ابھی آپ بھی بدلوگی تو بھابھی تو کپڑے دھورہی ہے وہ تو کہے گی جو کپڑے اتارے وہ دیدو میں دھولوں پھر تو اس کو پتہ لگ جائےگا کہ ہم نے کون سا کھیل کھیلا ہے باجی نے میری بات سنی تو تھوڑی گھبراگئی باجی نے کہا یہ تو تم نے ٹھیک کہا اب کیا کریں میں نےکہا باجی میں تو چپکے سے نکل جاتا ہوں اور آپ نا کپڑے مت بدلیں بس بھابھی کے نزدیک مت جائیں بس ایسے ہی کسی کام کے بہانے چلتی پھرتی رہا کریں تاکہ آپ کی شلوار سوکھ جائے تب بھابھی کو سمیل محسوس نہیں ہوگی سن کے باجی کے ہونٹوں پر گہری مسکراہٹ بکھر گئی میں چونکہ دروازے کے قریب کھڑا تھا اس لیے باجی مجھے دکھیلتی ہوئی کمرے کے اندر لے آئی اور مجھے کس کرکے کہا تم بہت ذہین ہو تم نے میری ساری پریشانی دور کردی نہیں تو جب تم نے یہ بات کی تو میرا تو اس طرف دھیان نہیں گیا تھا اور ایک اور کس کرکے کہا کیا ذبردست ایڈوائیز دی ہے میں نے کہا باجی آپکی محرومیوں کا ازالہ کا کرنے کیلیے ان چھوٹی چھوٹی باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے اور باجی کو کس کرکے نکل آیا گھرسے باہر نکل کر بازار چلا گیا وہاں میری نظر گارمنٹس کی دکان پر پڑی میں نے سوچا باجی کیلیے کچھ لے لوں میں نے باجی کے سائز کی برا پینٹی اور نیکر وغیرہ دو دو کرکے خریدیں سوچا باجی کو سرپرائز دوں گا دوپہرکو گھر واپس آگیا باہر صحن میں کوئی نہیں تھا میں سیدھا اپنےکمرے میں گیا اور نیفے سے باجی کے لیے خریدی ہوئی براپینٹی وغیرہ نکال کے اپنے بیڈ کے گدے کے نیچے گھسا دیں سوچا رات کو باجی کو سرپرائزدوں گا پھر میں امی کے کمرے میں گیا سب وہاں جمع تھے حسب معمول سب نے مل کر کھانا کھایا اس کے بعد میں اپنے کمرے میں آکر سو گیا رات کو میرے کمرے میں لڈو کی بازی جمی لیکن اس رات دیر تک ہم چاروں گیم کھیلتے رہے بھابھی اور مائرہ جانے کا نام ہی نہیں لے رہی تھیں جب بھابھی اور مائرہ کا دل کھیل سے بھر گیا اس وقت ساڑھے بارہ بج چکے تھے جب وہ جانے لگیں خلاف توقع باجی بھی ان کے ساتھ ہی چلنے لگی میں نے کہا باجی میرے ساتھ اور نہیں کھیلنا باجی نے کہاکہ نہیں میری طبیعت ٹھیک نہیں کل سے کھل کے تمہارے ساتھ کھیلوں گی بات کرتےہوئے باجی نے آنکھ کا گوشہ دبایا اور ان کے ساتھ کمرے سے نکل گئی میں ہکا بکا رہ گیا کہ باجی نے ایسا کیوں کیا میں نے سوچا شائد باجی مجھ سے کسی بات پہ ناراض ہوگئی ہے میرا دل جیسے کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا مجھے کسی پل چین نہیں مل رہا تھا میں بیڈ پر لیٹ گیا اس کے سوا میں اور کر بھی کیا سکتا تھا نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی دل میں طرح طرح کے خیالات آرہے تھے سوچتے سوچتے سر میں درد ہونے لگا انہی سوچوں میں گھرا نہ جانے رات کے کون سے پہر میری آنکھ لگ گئی اچانک مجھے محسوس ہوا کہ جیسے میرے بالوں کوئی کیڑا رینگ رہا ہو اور ساتھ ہی ہونٹوں پر لمس کا احساس ہوا میں نے بمشکل آنکھیں کھولیں کیونکہ میں گہری نیند میں تھا دیکھا کہ باجی میرے ہونٹ چوس رہی تھی اور میرے بالوں میں انگلیاں پھیر رہی تھی جیسے ہی میری آنکھیں کھلیں باجی نے سر اٹھایا اور جیسے گھبراگئی وہ تھوڑی پیچھے ہوئی