طلاق یافتہ 12

 

ایک ہاتھ سے میں نے باجی کی شلوار نیچے کی طرف کھسکائی شلوار آرام سے نیچے کھسک گئی کیونکہ باجی شلوار میں الاسٹک ڈالتی ہیں باجی نے اسی سائیڈ والی ٹانگ اٹھائی اور شلوار سے نکال دی میں نے دوسرے ہاتھ سے شلوار نیچے کی باجی نے ننگی ٹانگ اٹھا کے بقایا شلوار نیچے کی اور دوسرا پیر نکال لیا اس دوران میں ایک نپل انگلیوں میں مسلتا رہا اور دوسرا نپل چوستا رہا باجی نے بھی ہاتھ بڑھا کے میرا ناڑہ کھول کے ڈھیلا کیا میری شلوار نیچے گر گئی اور باجی نے میرا لن پکڑ کے چھو چھو کے سہلانے لگی میرا لن لوہے کی طرح سخت ہوچکا تھا باجی کی آنکھیں بند تھیں میں باجی کے جسم پر ہاتھ پھیرتا رہا میرا ہاتھ باجی کی چوت پر چلاگیا جیسے ہی میں نے باجی کی چوت کو چھوا باجی کی ٹانگیں کانپنے لگیں اس کے بدن کو جھٹکا لگا جیسے اسے بجلی کی ننگی تار چھو گئی ہو اور اس نے اونچی آواز میں سسکی بھری میں نے اس کو بانہوں میں بھر کے اٹھایا باجی نے بھی میرے گلے میں بانہیں ڈالیں میں نے باجی کو بیڈ پر لٹایا اوراس کے ساتھ بیٹھ گیا باجی پھر سے لن پکڑ کے سہلانےلگی اس دفعہ باجی نے آنکھیں کھول دیں اور خود سپردگی کے عالم میں مسکرائی اور آنکھوں میں اس کی تیرتے گلابی ڈورے دیکھ کر میں تو پاگل ہوگیا میں اس کے ساتھ ہی نیم دراز ہوگیا اور اپنا ایک ہاتھ اس کی چوت پر رکھ کے چوت کو سہلانا شروع کیا چوت پر ہاتھ رکھتے ہی باجی بیقرار ہوگئی میری انگلیاں چوت کی دراڑ میں رینگنے لگیں باجی نے لیٹے لیٹے جپھی ڈالی اور مجھے اپنے ساتھ لپٹالیا میں نے باجی کا اوپری ہونٹ منہہ میں لے کے چوسنے لگا تب میں نے محسوس کیا باجی کا منہہ سوکھ گیا تھا باجی میرا نچلا ہونٹ چوسنے لگیں ہماری زبانیں آپس میں ٹکرانے لگیں میں نے باجی کے منہہ اپنا لعاب ڈال دیا تاکہ باجی کا منہہ تر ہوجا ئے باجی کی چوت میں جیسے سیلاب آیا ہو باجی کی چوت پانی سے بھری ہوئی تھی مجھے تو لگا جیسے میرے ہاتھ میں مکھن کی ٹکیا ہو میری انگلیاں باجی کی چوت میں پھسل رہی تھیں اور باجی کے منہہ لذت بھری سسکاریاں نکل رہی تھیں کیونکہ میں چوت کے دانے کو بار بار انگلی سے رگڑ رہا تھا میں نے اس کے کان کی لو کو منہہ میں لے کے زبان سے رگڑنے لگا باجی بیخود ہونے لگی میں نے اس کے کان میں سرگوشی کی میری جان کیسا لگ رہاہے باجی نن مخمور لہجے میں کہا آج ہماری سہاگ رات ہے ایسی رات میری زندگی میں پہلے کبھی نہیں آئی میں نے باجی کی آخری بات پر غور نہیں کیا اور پرجوش لہجے میں کہا ہاں میری جان آج ہماری سہاگ رات ہے میں اٹھ کے باجی کی ٹانگوں کے بیچ آگیا اور اس کی چوت کی دراڑمیں لن کی ٹوپی ڈال کر لن کو پکڑ کے اوپر نیچے کرنے لگا میں نے لن کو چوت کے پانی میں بھگویا باجی کی چوت بہت خوبصورت ہے بلکل بی پی فلموں کی لڑکیوں کی چوت کی طرح جسم کے رنگ سے ہم آہنگ باجی کا رنگ گندمی مائل بہ سفید ہے جلد ملائم اور چمکدار ہے اس کی چوت کا ویسے تو پتا نہیں چلتاہے کیونکہ باجی کی چوت کے ہونٹ بلکل آپس میں ملے ہوئے ہیں ہلکی سی لکیر سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ چوت ہے میں نے لن کی ٹوپی چوت کے سوراخ میں فٹ کی اور باجی سے کہا اندر کروں ؟ باجی نے کہا کیوں میرے صبر کا امتحان لے رہے ہو اس کا تو مجھے برسوں سے انتظار تھا لیکن آرام سے کیونکہ میں کنواری ہوں

کیا؟ مجھے حیرت کا جھٹکا لگا۔

مینے حیرانی سے باجی کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا اور باجی میری انکھوں میں دیکھ کر سمجھ گی میں انسے کیا پوچھنا چھاھتا ھوں.. باجی نے میری انکھوں میں انکھیں ڈال کر دبے ھوے الفاظ میں کھا ” ھاں بھای میری چوٹ ابھی تک کنواری ھے میں ابھی تک اپنی اس پیاس کو بجھانے کے لے ترپ رھی ھوں اس لیے اس دن بس میں جب تمھارے گرم لن نے میرے منہ کو چھوا تھا اور میں نے جب اسکو اپنے ھاتھ میں لے کر اسکی لمبای اور موٹای چیک کی تو مجھے یقین ھو گیا کے تم ھی میری راحت کا زریہ بنو گے تم ھی میری روح کو سکون پھنچاو گے۔

میں باجی کی باتوں کو سنتے ھوے اتنا کھو گیا کہ مجھے یہ بھی پتہ نھی چلا کب میرا لن دوبارہ مر جھا گیا.. باجی نے جب یہ دیکھا تو میری کیفیت کو سمجھتے ھوے نیرے لن کو اپنی ھاتھ کی مٹھی میں دبا دیا اور میرے خشک ھونٹوں کے اوپر اپنی زبان کی نوک گھمانے لگی… وہ مکمل زبان کو اوپر نیچھے کر کے میرے ھونٹوں کو چاٹ رھی تھی.. زرا دیر میرے ھونٹون کو اپنی زبان سے تر کرنے کے بعد انھو نے زبان کو میرےا ھونٹوں کے اندر زور دے کر گھسا دیا اور اپنی زبان میرے ھونٹوں کے درمیان اگے پیچھے کرنے لگی جیسے وہ میرے منھہ کو اپنی زبان سے چود رھی ھوں

باجی کی یہ حرکت کرنے سے میں مزے کی ایک الگ دنیا میں پہنچ گیا تھا میرا جسم جیسے سن ھو گیا تھا باجی نے میرے ھاتھوں کو اپنے ھاتھ میں لیا اور اپنی گانڈ پر گھمانے لگی میں آنکھیں بند کر کے صرف باجی کی ھر حرکت کا مزا لے رھا تھا..

کہ اچانک باجی نے اپنا منہ ھٹا لیا اور اپنی نشیلی انکھوں کو میری انکھوں میں ڈالتے ھوے بری منت بھرے لھجے میں کھا

” بھای میرا ضبط ختم ھو چکا ھے میں اب ایک منٹ بھی اپنی گرمی کو برداشت نھی کر سکتی پلز میرے حال پر رحم کرو اج میری پیاس بجھا دو”

مین باجی کی اس حالت کو دیکھ کر جوش میں ا گیا اور اپنی لن کی ٹوپی اپنے ھاتھ سے پکر کے باجی کی گیلی چوٹ پر پھیرتے ھوے باجی کی قمر کو زور سے پکر لیا.. باجی بھی سمجھ گی میں ایک جھٹکے میں کام تمام کرنا چاھتا ھوں اور باجی بھی ایسا ھی چاھتی تھی انھو نے اپنی انکھیں بند کر کے اپنے اپ کو ھر تکلیف کے لے تیار کر لیا تھا… باجی کی حالت کا جایزہ لینے کے بعد جب مجھے انکی طرف سے بھی اشارہ ملا تو میرے منہ سے ھلکی سی چیخ نکلی جیسے میں اپنا پورا زور لگانے لگا ھوں اور ایک ھی جھٹکے میں ادھا لن باجی کی چوٹ میں اتار دیا..باجی کافی حد تک اس کے لیے تیار تھی مگر پھلی بار چدای ھونے کی وجہ سے انکی چوٹ سے خون نکلنے لگا انکو کافی زور کا جھٹکا لگا اور وہ بے ساختا چلا اٹھی “اہہہہ!،مر گی بھای سسسس’مینے خد کو ابھی سمبھالا بھی نھی تھا کے باھر سے دروازا بجنے کی اواز ای جیسے باھر پھلے ھی کوی کھرا ھماری باتیں سن رھا ھو اور باجی کی چیخنے کی وجہ سے اسنے دروازا بجا دیا مائرہ نے باھر سے آواز دی

آپی اپ ٹھیک تو ھیں؟ دروازہ کھولے” میری تو بنڈ پھٹ گی باجی نے بھی بھت مشکل سے خد کو سمبھالا سکلیف کی شدت کی وجہ سے انکی انکھوں سے مسلسل انسو نکل رھے تھے پر وہ اپنے منہ پر ھاتھ رکھے ھوے اپنی چیخوں کو برداشت کر رھی تھی میں انکو دیکھ کر بھت گھبرا گیا مجھے کچھ سمجھ نہی ا رھی تھی کیا کروں اتنے میں مائرہ نے دوبارہ دروازہ بجایا تو میں نے ھوش سنبھالی۔

ایک تبصرہ شائع کریں (0)
جدید تر اس سے پرانی