تلاشِ زِیست 04

 





سالوں سے میں سوچ ہی تو رہا تھا۔ اب کرنے کا وقت آیا تھا تو پیچھے ہٹنا صحیح نہیں تھا۔ اب نہیں تو پھر کبھی بھی نہیں۔ یہی سوچ کر میں نے سنجے اور ظہیر کو گرین سگنل دے دیا۔ 

میرے سگنل ملتے ہی دونوں کے دل کی دھڑکن بڑھ گئی۔ اور ان کے چہرے جوش سے بھر گئے۔ انہوں نے گارڈز سے چھپا کر مجھے اوکے کیا اور اپنے کام میں لگ گئے۔ 

میں نے کچھ تیاری کی ہوئی تھی، تو کچھ ظہیر اور سنجے نے بھی کی تھی۔ ہمیں جنگل کے راستے کے لیے ٹارچ، چھری، اور رسی ضرور چاہیے تھی۔ جنگل میں اس کی بڑی ضرورت پڑ سکتی تھی۔ کھانے کے لیے تو کچھ لے کر جا نہیں سکتے تھے، کیونکہ پہلے 0.5 کلومیٹر بھاگ کر جانا پڑتا تھا اور پہاڑی علاقہ تھا۔ کھانے کو سنبھالتے یا پھر خود کو۔ کھانے پینے کے لیے جنگل میں ہی کچھ دیکھا جائے گا۔ آخر اور بھی تو کئی قیدی جنگل سے بچ نکلے تھے۔ مطلب کچھ تو تھا وہاں ان کے پیٹ بھرنے کے لیے اور ان کی پیاس بجھانے کے لیے۔ 

٭٭٭٭٭٭٭

 آج ہم تینوں ہی یہاں سے بھاگنے والے تھے۔ جہاں ہم کام کر رہے تھے، وہاں ہم 200 کے قریب قیدی کام کر رہے تھے۔ اور ان 200 کے اوپر 20 گارڈز گن لے کر نگرانی میں لگے ہوئے تھے۔ 

زیادہ تر قیدی زیر زمین سرنگ میں کام کر رہے تھے۔ آج ہماری ڈیوٹی اوپر لگی تھی۔ لنچ ٹائم تک ہم کام میں لگے رہے۔ پھر ہمیں کھانے کے لیے دیا گیا۔

گارڈز بھی لنچ کیا کرتے تھے۔ لیکن اس بیچ 3 گارڈز پہرے پر رہتے تھے۔ وہ بعد میں لنچ کیا کرتے تھے۔ ایک گارڈ ہماری والی سائیڈ ہوتا تو باقی دو دوسری طرف۔ سبھی گارڈز کے ہاتھ میں مشین گن ہوتی تھیں۔ 

سنجے رئیس باپ کا بیٹا تھا، تو اس نے گن چلانی سیکھی ہوئی تھی۔ لیکن مشین گن کبھی نہیں چلائی تھی۔ لیکن سنجے کنفیڈنٹ تھا کہ اگر اسے مشین گن چلانی پڑ گئی، تو وہ کوشش ضرور کرے گا۔ 

اب یہاں ہر ایک چیز میں رسک تھا، تو پھر زیادہ سوچنے کی ضرورت نہیں تھی۔ 

ہم اپنا کھانا لے کر ایک چٹان کے پیچھے چلے گئے۔ وہ جگہ گارڈز سے زیادہ دور نہیں تھی۔ اب ہم کھلے میں تو کوئی چانس لے نہیں سکتے تھے۔ اگر گارڈ کسی طرح سے چٹان کے پاس آ جائے، تو ہم اسے قابو میں کر کے مار سکتے تھے۔ اور یہاں سے گارڈ کے چیخنے کی آواز بھی دوسرے گارڈز تک نہیں پہنچ پائے گی۔ اس لیے میں نے ظہیر اور سنجے کو سب سمجھا دیا تھا۔ 

جب ہم چٹان کے پاس لنچ کے لیے بیٹھے، تو لنچ ہم نے جنگل کے لیے بچا لیا۔ اب یہاں سے بھاگنا تھا تو ہم خالی پیٹ ہی صحیح سے بھاگ سکتے تھے۔ بھرے ہوئے پیٹ سے بھاگنا مطلب پکڑے جانے کا خطرہ۔ اور پھر ہمیں جنگل میں کھانا ملے نہ ملے، وہاں کام آ سکتا تھا۔ 

ہمارے بیٹھنے کے 3 منٹ بعد ہی ظہیر اور سنجے آپس میں الجھ پڑے۔ ہمارے الجھنے کی آواز سے گارڈ بھاگتا ہوا ہمارے پاس آیا۔ 

گارڈ: (مشین گن کو ہماری طرف سیدھا کرتے ہوئے) چھوڑو ایک دوسرے کو، ورنہ میں تم کو یہیں بھون کر رکھ دوں گا۔ حرامزادے، لنچ کے ٹائم بھی لڑنے لگ جاتے ہیں۔ 

گارڈ کا فاصلہ مجھ سے 5 فٹ تھا۔ اور میں یہاں سے اس پر حملہ نہیں کر سکتا تھا۔ سنجے نے ایک ترچھی نظر سے گارڈ کو دیکھا اور پھر کچھ فٹ اور ظہیر کو گھسیٹتے ہوئے لے گیا۔ گارڈ کو غصہ آ گیا۔

گارڈ: کتے کے بچوں، رک جاؤ۔ نہیں تو یہیں مارے جاؤ گے۔ اور یہاں تم جیسوں کو مارنے کے لیے مجھے سوچنے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ 

یہ بولتے ہی گارڈ تھوڑا سا آگے آیا تو میں نے دیر نہ کرتے ہوئے اس کے گن والے ہاتھ کو پکڑ کر اوپر کر دیا۔ بس پھر سنجے اور ظہیر نے پل جھپکتے ہی میرے ساتھ مل کر گارڈ کو قابو کر لیا۔ گارڈ ٹریگر دبانے ہی والا تھا کہ میں نے اس کی گردن ہی توڑ دی۔ 

سنجے اور ظہیر نے جب گارڈ کو قابو کیا تو میں نے دیر نہ کرتے ہوئے گارڈ کی گردن کو قابو میں کر لیا تھا۔ اب سارا دن ہتھوڑا چلا چلا کر بدن بھی لوہے جیسا ہو گیا تھا۔ اور ہاتھ ہتھوڑے جیسے۔ تو گارڈ کی گردن کے ٹوٹنے میں دیر نہیں لگی۔ 

ہم نے جلدی سے گارڈ کی تلاشی لی اور جو کچھ بھی اس کے پاس سے ملا، لے کر پہاڑی کی دوسری طرف کو بھاگ لیا۔ سنجے نے مشین گن اور اس کی گولیوں والی بیلٹ بھی ساتھ لے لی تھی۔ 

جب گارڈ سنجے اور ظہیر کی جھڑپ سے ہماری طرف آیا تھا، تو کچھ فاصلے پر 5 اور بھی قیدی بیٹھے تھے۔ وہ ہمیں ہی دیکھ رہے تھے۔ ہمارے بھاگتے ہی وہ بھی اٹھ کر ہمارے پیچھے بھاگنے لگے۔ 

سالوں کے بھاگنے کی وجہ سے دوسرے دور کھڑے دو گارڈز کا دھیان بھی ہماری طرف ہو گیا۔ اور پھر ان دونوں نے وہیں سے مشین گن کا رخ ہماری طرف کر کے ٹریگر دبا دیا۔ 

دھڑ۔۔ دھڑ۔۔ دھڑ۔۔ دھڑ۔۔ دھڑ۔۔ دھڑ۔۔ دھڑ۔۔ دھڑ۔۔ دھڑ۔۔ دھڑ۔۔ کی آواز سے سارے ہی گارڈز لنچ چھوڑ کر اپنی گنیں اٹھائے ہماری طرف آنے لگے۔ 

ہمارے پیچھے بھاگنے والے بے وقوف قیدی وہیں مارے گئے۔ اور ہمیں لگنے والی گولیاں ان قیدیوں کو لگ گئیں۔ بس ان میں سے ایک بچ سکا۔ وہ بھی بھاگتا ہوا ہمارے پیچھے ہو لیا۔ پہاڑی سے اترنا آسان نہیں تھا۔ لیکن جان بچانا بھی ضروری تھا۔ 

اگر 5 قیدی نہ بھاگتے تو 20 منٹ تک کسی کو ہمارے بارے میں پتا ہی نہیں چلنا تھا۔ کمینوں نے ہمیں مروا دیا تھا۔ اب بس قسمت سے ہی بچ سکتے تھے۔

ان پانچ بے وقوف قیدیوں کی وجہ سے آج ہم تینوں کی زندگیاں موت کی دہلیز پر آ ہی چکی تھیں۔ نہ وہ ہمارے پیچھے بھاگتے اور نہ ہی کسی کو ہمارے بھاگنے کا فوراً پتا چلتا۔ 

اب اس کنفرم موت سے بچنا ہمارے لیے ممکن نہیں تھا۔ اب تو بس اوپر والے کی ہی مدد سے ہم بچ سکتے تھے۔ اگر لڑائی ہاتھوں سے ہوتی تو میں اتنی آسانی سے  مرنے والا نہیں تھا۔ لیکن یہاں تو مشین گنوں کی گولیوں کی بارش ہی شروع ہو گئی تھی۔ اور یہاں سے ہمارا بچ نکلنا ممکن نہیں تھا۔ بس قدرت نے اگر ہماری زندگی لکھی ہے تو ہی ہم بچ سکتے تھے۔ ورنہ ہمارے پاس اپنی ہی زندگی بچانے کے لیے کوئی راستہ نہیں تھا۔ ہاں، سنجے کے پاس ایک مشین گن ضرور تھی، لیکن وہ اسے چلا نہیں سکتا تھا۔ لیکن وہ کوشش تو ضرور کرے گا۔ ہم اسی طرح تو خود کو موت کے حوالے نہیں کر سکتے تھے۔ 

ہم تینوں کے پیچھے بس ایک ہی قیدی بچ کر آنے میں کامیاب ہو پایا تھا۔ گولیوں کی بارش سے بچتے ہوئے ہم ایک چٹان کی آڑ میں پہنچنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ اوپر والے نے ایک بار ہمیں بچا لیا تھا لیکن۔۔ 

لیکن یہاں سے جنگل تک کا فاصلہ 400 میٹر کا تھا۔ اور اس فاصلے کو ختم کرنا اب ہمارے لیے ممکن نہیں رہا تھا۔ گارڈز کسی بھی لمحے ہم تک پہنچ سکتے تھے۔ پہلے ہم تین تھے، لیکن اب چار ہو گئے تھے۔ 

ہم پھنسے تو تھے، لیکن خود کی نہیں، دوسرے بیوقوف قیدیوں کی وجہ سے پھنسے تھے۔ چار مر گئے تھے وہیں بھاگتے ہوئے۔ ایک بچ گیا تھا۔ غلطی تو اس کی بھی تھی۔ ہمیں اس پر غصہ ہونا چاہیے تھا، لیکن۔۔ 

ایک تبصرہ شائع کریں (0)
جدید تر اس سے پرانی