جیسے ہی کرن نے پیشاب کی پہلی دھار ماری تو وہ سکون کی سانس لیتے ہوئے بولی۔۔۔تھینک یو رانی۔۔بڑے زور کا لگا ہوا تھا۔
میں نے اسکی بات کا کوئی جواب نہ دیا۔۔ بلکہ میری ساری توجہ اس کی چوت سے نکلنے والے پانی کی طرف تھی۔۔جو کہ اس کی چوت سے نکل کر واش روم کے فرش پر گر رہا تھا۔
مجھے اپنی پھدی کی طرف ٹکٹکی باندھے دیکھنے سے وہ وہ مسکرائی اور بڑی شرارت سے بولی۔۔۔میرا پانی اچھا لگ رہا ہے؟
تو میں بدستور اس کی چوت پر نظریں گاڑھتے ہوئے بولی۔۔۔ہاں بہت اچھا لگ رہا ہے۔
میری بات سن کر وہ کہنے لگی۔۔۔ گڈ۔۔یہ بتاؤ کیا تم بھی میرے سامنےایسے ہی پیشاب کر سکتی ہو؟
تو میں اس سے بولی۔۔۔ کوشش کرتی ہوں۔
تو وہ شہوت بھرے لہجے میں بولی۔۔۔ کوشش نہیں ڈارلنگ ۔۔پیشاب کر۔
تب میں اس کے سامنے کھڑی ہو گئی ۔۔اور اپنی دو انگلیوں کی مدد سے چوت کے لپس کھولے۔۔ جس کی وجہ سے میری “چوت کا سُراخ ” اس کی نظروں کے سامنے آ گیا۔۔اب میں نے تھوڑا سا زور لگایا تو ۔۔ میری چوت سے بھی کرن کی طرح آبشار بہنے لگی۔۔اس نے بڑے غور سے میری چوت سے نکلنے والے پیشاب کی طرف دیکھا۔۔اورپھر مجھے اور قریب آنے کا بولی۔۔تب میں پیشاب کرتے کرتے اس کے قریب ہو گئی۔۔تو اس نے میری چوت سے نکلنے والے پانی کی دھار کے نیچے اپنا ہاتھ رکھا۔۔اُس نے میری پھدی سے نکلنے ولا گرم گرم پانی اپنے ہاتھ پر محسوس کیا ۔
اور پھر اپنے سیکسی ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے بولی۔۔۔ تیری پھدی کا پانی بھی بڑا مست ہے
اس پر میں اس سے بولی۔۔۔ تمہیں اچھا لگا ناں؟
تو وہ شہوت بھرے لہجے میں بولی۔۔۔تمہاری چوت سے نکلنے والا پانی۔۔اور اس پانی کے گرنے کی آواز ۔۔یہ سب بہت ہی سیکسی ہے ۔
اور پھر بڑے ہی غور سے میری طرف دیکھنے لگی۔۔اتنے غور سے کہ اس کے اس طرح دیکھنے سے مجھے کچھ کچھ ہونے لگا۔
یہ دیکھ کر میں اس سے بولی ۔۔۔کیا بات ہے؟؟؟؟؟۔۔ اتنی توجہ سے کیوں دیکھ رہی ہو؟
تو وہ میرے جسم کو گھورتے ہوئے بولی۔۔۔ رانی تم سچ مچ کی رانی ہو۔۔ ننگی ہو کر بھی تم اتنی ہی کیوٹ ہو۔۔ جتنی کہ کپڑے پہن کر لگتی ہو۔
کرن کے ریمارکس سن کر میرا چہرہ سرخ ہو گیا۔۔ اور میں اس سے بولی۔۔۔ ایسے نہ کہو یار۔۔ تم بھی توکسی سے کم نہیں ہو۔
تو وہ میری چھاتیوں کو گھورتے ہوئے بولی۔۔۔ سچ کہہ رہی ہوں رانی اگر میں لڑکا ہوتی نا ۔۔تو میں نے ابھی اور اسی وقت تمہاری عزت لوٹ لینی تھی۔
اس پر میں مزاحیہ انداز میں بولی۔۔۔۔ عزت ضرور لوٹنا ۔۔لیکن پلیزززززززززززز۔۔ گانڈ نہیں مارنا بڑی درد ہوتی ہے۔
تو وہ میری بات کو سنا ان سنا کرتے ہوئے اسی ٹون میں بولی ۔۔۔خان نے تو تمہاری عزت پیچھے سے لوٹی تھی ۔۔جبکہ میں نے آگے سے لوٹنی تھی۔
اس کی بات سن کر میں حسرت سے بولی۔۔۔اگر ایسی بات ہے تو کاش ش ش ش ش ش۔۔ تم لڑکا ہوتی۔
اس دوران اس کا پیشاب ختم ہو چکا تھا۔۔۔ چنانچہ جیسے چوت سے پانی گرنا بند ہوا ۔۔ وہ کموڈ سے اُٹھ کھڑی ہوئی ۔۔ایک دفعہ پھر سے میری نگاہ اس کی چوت پر پڑ گئی۔۔اس کی پھدی گوری موٹی اور ابھری ہوئی تھی۔۔ میرے برعکس اس کی پھدی پر ایک بھی بال نہ تھا۔۔میرے خیال میں اس نے آج ہی صفائی کی تھی ۔۔اس دوران وہ شلوار اوپر کر کے ۔۔ میرے پاس آ گئی۔
اور پھر بڑے ہی گرم لہجے میں کہنے لگی۔۔۔ ویسے تم ہو بڑی کیوٹ۔
اس پر میں بھی اسی لہجے میں بولی۔۔۔ تم بھی تو قیامت ہو۔
میری بات سن کر وہ میرے اور قریب ہو گئی۔۔ وہ میرے اتنے نزدیک آ چکی تھی کہ مجھے اپنے گالوں پر اس کی گرم سانسیں فیل ہو رہیں تھیں۔۔اب ہم ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ۔۔ایک دوسرے کو بڑی ہی بھوکی اور شہوت بھری نظروں سے دیکھ رہیں تھیں۔
تب کرن سرگوشی کرتے ہوئے بولی۔۔۔ رانی۔۔ آئی لو یو۔
اور اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں پر رکھ دیئے۔۔اس کے ہونٹ بڑے نرم اور اس کے منہ سے بڑی ہی مست قسم کی مہک آ رہی تھی۔۔ اور اس مست مہک نے مجھے پاگل سا کر دیا تھا۔۔ چنانچہ میں نے بھی بڑے ہی آرام سے اسے ہونٹ چوسنے دیئے۔۔ہونٹ چوسنے کےبعد اس نے دھیرے سے اپنی زبان کو میرے منہ میں ڈال دیا۔
اُففففففف۔۔ زبانوں کے اس بوسہ نے میری تو جان ہی نکال دی۔۔میرے سارے جسم میں اک آگ سی بھر گئی۔۔ہم دونوں پاگلوں کی طرح کسنگ کر رہیں تھیں اور اس وقت واش روم میں صرف ہماری گرم سانسوں اورکسنگ کی مخصوص ۔۔پوچ پوچ ۔۔کی ہی آواز سنائی دے رہی تھی۔
کرن نے اپنے منہ کو میرے منہ میں ڈالا ہوا تھا۔۔ اور وہ بڑے ہی مست انداز سے میری زبان کو چوسے جا رہی تھی۔۔ زبان چوسنے کے ساتھ ساتھ وہ میری ننگی چھاتیوں کو بھی دبا رہی تھی ۔۔ جس کی وجہ سے میرے پورے جسم میں شہوت کی آگ دوڑ رہی تھی۔۔اور میں بے چینی سے اپنے جسم کو اس کے جسم کے ساتھ ملانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔ڈھیر ساری کسنگ کرنے کے بعد اس نے اپنا منہ میرے منہ سے الگ کیا
چند سیکنڈ میری آنکھوں میں دیکھ کر کہنے لگی۔۔۔رانی ڈارلنگ ۔۔ کمرے میں چلتے ہیں ۔۔وہاں زیادہ مزہ آ ئے گا۔
کمرے میں داخل ہوتے ہی کرن نے جلدی سے دروازے کو لاک کیا۔۔اور اپنے کپڑے اتارنے لگی جبکہ میں تو پہلی ہی ننگی تھی۔۔کپڑے اتارتے ہی وہ سیدھی میرے پاس آئی اور ایک بار پھر ہم دونوں ایک دوسرے کے ساتھ چمٹ گئیں۔۔اس کے ساتھ ہی ہمارے منہ بھی ایک دوسرے کے ساتھ لاک ہو گئے ۔
پہلے کی نسبت اس دفعہ کسنگ کا دورانیہ کچھ کم رہا ۔۔چنانچہ کسنگ ختم ہوتے ہی اس نے مجھے اشارہ کیا ۔۔اور میں بیڈ پر جا کر سیدھی لیٹ گئی۔۔اب کرن میرے اوپر آ گئی۔۔ اور اپنی زبان سے میرے سارے بدن کو چاٹنے لگی۔۔اس کی سیکسی زبان میرے بدن کے جس حصے کو بھی ٹچ کرتی۔۔میرے جسم میں ایک کرنٹ سا دوڑ جاتا۔۔اور میں بے اختیار سسکیاں لینا شروع ہو جاتی۔۔ اس کے بدن چاٹنے سے میں مزے کی کسی اور ہی دنیا میں پہنچ گئی تھی۔۔ا ورلذت سے بے حال ہوئی جا رہی تھی ۔۔ جبکہ دوسری طرف کرن مسلسل میرے جسم کو چاٹے جا رہی تھی۔۔ میرے اوپری جسم کو چاٹنے کے بعد وہ میری بھاری چھاتیوں کی طرف متوجہ ہوئی۔۔پھر اس نے اپنے ہاتھ میں میرے ممے کو پکڑا اور اس کے نپل کو اپنے منہ میں لے کر مزے سے چوسنے لگی۔
جبکہ اس کا دوسرا ہاتھ میری گیلی چوت کی طرف چلا گیا۔۔وہ میری پھدی کو دباتے دباتے دانے تک پہنچ گیا۔۔پھر اس نے اپنی دو انگلیاں میرے پھولے ہوئے دانے پر رکھیں اور اس پر مساج کرنے لگی۔۔کرن کے ایسا کرنے سے میں تڑپ اُٹھی۔۔اور میرے منہ سے لطف اور مزے کے مارے سسکیاں خارج ہونا شروع ہو گئیں۔۔میں بہت زیادہ مزے میں آ گئی تھی۔۔چنانچہ میں نے اس کو بالوں سے پکڑا ۔۔اور اس کے سر کو اپنی دونوں ٹانگوں کے بیچ کرنے کی کوشش کرنے لگی۔۔کیونکہ اس وقت میری پھدی میں آگ لگی ہوئی تھی۔۔ کرن کو شاید پہلے ہی اس بات کا اندازہ تھا۔