اب ہم ایک خطرے سے باہر آ گئے تھے۔ اور اس وقت ہم آگے آنے والے خطرے کے بارے میں سوچنا نہیں چاہتے تھے۔ اس وقت ہمارے لیے خود کو بحال کرنا زیادہ ضروری تھا۔ اور پہلے اسٹیج کے پار ہو جانے کی خوشی منانی تھی۔ آگے اگر ہمارے لیے موت کے ان گنت جال بھی بچھے ہوئے تھے تو ہمیں فی الحال اس کا غم کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ یہ وقت تو تھا جشن کا۔
لیکن سنجے کے زخمی کندھے کی وجہ سے ہم اپنی خوشی سے جشن بھی نہیں منا سکتے تھے۔
آدھا گھنٹہ لیٹ کر ہم خود کو ریلیکس کرتے رہے۔ اب یہاں جنگل میں گارڈز تو آنے والے نہیں تھے، کیونکہ کم ہی کوئی اس جنگل سے زندہ بچ پایا تھا۔ تو پھر گارڈز کیوں اپنی جان کو خطرے میں ڈالیں؟
ان کے پاس ہیلی کاپٹر تھے۔ اور وہ ہیلی کاپٹر کے ساتھ ہمیں جنگل میں ڈھونڈنے کی کوشش ضرور کریں گے۔ لیکن وہ بھی صرف ایک بار۔ کیونکہ قیدی بچ کر جائیں گے کہاں؟ جنگل کے پار بستی ہے۔ وہیں جنگل سے بچ کر نکلنے والے دھر لیے جاتے تھے۔
میں نے سب کی طرف دیکھا تو سب ہی آنکھیں بند کیے ہوئے تھے۔ لیکن سب کی ہی سانس اب نارمل ہو گئی تھی۔ بس ویسے ہی لیٹے ہوئے تھے۔ میں سنجے کے پاس گیا۔
راجہ: سنجے، اب کیسا فیل کر رہے ہو؟
سنجے مجھے دیکھ کر درد میں ہونے کے باوجود بھی مسکرانے لگا۔
سنجے: راجہ، یہ سب تمہاری ہی وجہ سے ہوا ہے۔ ورنہ آج تو ہم مارے ہی گئے تھے۔ تم نے جو لاسٹ راؤنڈ چلایا تھا، بس اسی نے ہمیں بچا لیا، ورنہ ہماری روح تو کب کی ہمارے جسم کا ساتھ چھوڑ چکی ہوتی۔ تھینکس راجہ، سچ میں یہ سب تمہارے ہی دم سے ہوا ہے۔ ورنہ ہمت ہونے کے باوجود بھی ظہیر اور میں یہ رسک نہیں لے سکتے تھے۔
سنجے نے مجھے ایک ہاتھ سے تھام لیا۔ ظہیر بھی ہمارے پاس ہی آ گیا۔ اور بیٹھے بیٹھے ہی مجھے گلے سے لگا لیا اور خوشی کے آنسو رونے لگا۔
ظہیر: ہم کئی مہینوں سے بھاگنے کا سوچ رہے تھے، لیکن کبھی ایسا کر نہ پائے۔ راجہ، یہ سب تمہاری وجہ سے ہوا ہے۔ “تھینکس راجہ”
میں نے بھی ظہیر کو اچھے سے گلے لگایا۔ ہم سب ہی خوشی منا رہے تھے۔ میرے کندھے میں بہت درد ہو رہا تھا۔ لیکن فی الحال یہ سوچنے کے لیے بہت ٹائم تھا۔
چوتھا لڑکا ہمیں اس طرح ملتے ہوئے دیکھ کر خوش تھا۔ لیکن وہ ہمارے پاس نہیں آیا۔ میں لڑکے کو گھور کر دیکھنے لگا۔ مجھے وہ لڑکا کم عمر کا لگا۔ اس کے چہرے پر ایک بھی بال نہیں تھا۔ پھر میں نے اس لڑکے کو دیکھنا چھوڑ کر سنجے اور ظہیر کے ساتھ اپنی خوشی کو سیلبریٹ کرنے لگا۔
راجہ: سنجے، اب تمہارے کندھے کا کیا حال ہے؟
جتنی خوشی ہمیں منانی تھی، وہ منا لی تھی۔ اب جیسے ہی میں نے سنجے سے اس کے کندھے کے بارے میں پوچھا تو سنجے کا دھیان اپنے کندھے کی طرف گیا۔
تو سنجے کو اپنے کندھے پر اچانک سے درد کا احساس ہونے لگا۔ اور پھر سنجے کی چیخیں نکلنے لگیں۔
پہلے جب ہم سب بھاگ رہے تھے تو جسم گرم تھا، اس لیے سنجے کو درد کا احساس کم ہوا تھا۔ لیکن اب سنجے کا جسم سست پڑتے ہی سنجے کو بے انتہا درد ہونے لگا۔
میں نے جلدی سے ظہیر کی مدد سے سنجے کی شرٹ اتاری تو سنجے کا کندھا دیکھ کر ہم سب ہی پریشان ہو گئے۔ سنجے کا کندھا اپنی جگہ سے کچھ ہٹ گیا تھا۔ اور سنجے کے کندھے پر سوجن ہونا شروع ہو گئی تھی۔ یہ سنجے کے ساتھ بہت ہی غلط ہوا تھا۔ اب اس جنگل میں ہم سنجے کے لیے کیا کر سکتے تھے؟ ہم سب سنجے کے لیے کچھ نہیں کر سکتے تھے۔
سنجے کا کندھااپنی جگہ چھوڑ چکا تھا، سنجے کے لیے اور ہمارے لیے ایک بڑی مشکل کھڑی کر چکا تھا۔ ہمیں جنگل سے بچ کر نکلنا تھا اور ساتھ مل کر نکلنا تھا۔ ہم تھے ہی کتنے، صرف 4۔ اور ایک کے بھی کم ہو جانے سے ہماری طاقت کم ہو جاتی۔ اس لیے ہم سب کا صحیح سلامت رہنا بہت ضروری تھا۔
راجہ: سنجے، تمہارے ساتھ تو بہت غلط ہو گیا ہے۔ اب ہم تمہارے لیے کیا کر سکتے ہیں؟ (پھر میں ظہیر سے بولا) ظہیر، تم بتاؤ ہم سنجے کے لیے کیا کریں؟
ظہیر: میں کیا کر سکتا ہوں؟ یہاں اس جنگل میں ہمیں کیا مل سکتا ہے؟ اور ہمیں تو کسی چیز کا ایکسپیرینس بھی نہیں ہے۔
ظہیر بھی پریشان تھا سنجے کی حالت کو لے کر۔ وہ بھی میری ہی طرح سوچنے لگا کہ سنجے کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے۔
میں سوچنے لگا کہ سنجے کے لیے کیا کر سکتا ہوں۔ اب ایسی حالت میں سنجے کا سفر کرنا ٹھیک نہیں رہے گا۔ کچھ تو سنجے کے لیے کرنا پڑے گا۔
راجہ: (میں نے چوتھے لڑکے سے پوچھا) تمہارا نام کیا ہے؟
لڑکا: (دھیمی آواز میں بولا) میرا نام رانا ہے۔
اس کی آواز بڑی مشکل سے ہمیں سنائی دی۔ پتا نہیں کیوں، لیکن اس کی آواز کچھ عجیب سی تھی۔ ابھی ان سب باتوں پر غور کرنے کا وقت نہیں تھا، تو میں پھر سے سنجے کو لے کر سوچنے لگا اور سنجے کے لیے جو کچھ کیا جا سکتا تھا، اس بارے میں غور کر رہا تھا۔
کوئی دیسی ٹوٹکا ہی کام آ سکتا تھا۔ مجھے یاد آیا کہ بستی میں ایک آدمی تھا جو ہڈی کو سیٹ کیا کرتا تھا۔ لیکن میں سنجے کے کندھے کو تو ٹھیک نہیں کر سکتا تھا۔ پر ہاں، کچھ لکڑی کا جگاڑ لگا کر سنجے کے لیے کچھ درد کم کیا جا سکتا ہے۔ سنجے کا بازو اگر ہلنا بند ہو جائے تو شاید سنجے کو کچھ راحت ملے۔ اب سنجے کا کندھا تو ٹھیک ہونے سے رہا۔ یہ تو کوئی ڈاکٹر ہی کر سکتا تھا۔ اور ہمارے پاس کوئی بھی ڈاکٹر نہیں تھا۔ میں سوچوں میں گم تھا کہ مجھے ظہیر کی آواز سنائی دی۔
ظہیر: رانا، تم بول بھی سکتے ہو؟ میں نے تو سنا تھا کہ تم گونگے ہو۔ اور پھر میں نے بھی کبھی تمہیں بولتے ہوئے نہیں سنا تھا۔
رانا: (دھیمی آواز میں ہی) بس اب میں کیا بتاؤں۔ یہاں تو سب قیدی ہی تھے، تو مشقت کے علاوہ کچھ تھا ہی نہیں کرنے کو۔ اور وہاں رہتے ہوئے کسی سے بات کرنے کی اجازت بھی نہیں تھی۔
رانا جب تک بولتا رہا، میں اسے ہی دیکھتا رہا۔ مجھے کچھ عجیب سا تو لگ رہا تھا، پر میں کچھ بھی سمجھ نہیں پا رہا تھا۔
راجہ: ظہیر، اندھیرا ہونے سے پہلے ہمیں کچھ ایسی لکڑی چاہیے جو سنجے کے کندھے اور بازو کو باندھنے کے کام آئے۔ شاید اس سے سنجے کے لیے کوئی جگاڑ بن سکے۔
سنجے: راجہ، جو بھی کرنا ہے جلدی کرو، اب مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ کسی نے میرا ہاتھ ہی میرے جسم سے الگ کر دیا ہو۔
سنجے کے بولتے ہی ظہیر اور لڑکا اٹھ کھڑے ہوئے، تو میں نے وہ سامان دیکھنا شروع کر دیا جو ہم لائے تھے۔
ایک مشین گن تھی۔ ایک چاقو گارڈ کے پاس سے ملا تھا۔ تو ایک چھری تھی۔ ایک رسی تھی، ایک میٹر کی لینتھ ہوگی اس کی۔ کچھ پیسے بھی تھے، ابھی میں نے اسے کاؤنٹ نہیں کیا۔ لنچ میں سے ہم کچھ نہیں لا سکے تھے۔ جیسی کنڈیشن بن گئی تھی، وہاں لنچ بچانے کے بجائے ہمیں خود کی جان بچانے کی زیادہ ضرورت تھی۔ اب رات بھر ہمیں بھوکے اور پیاسے رہنا تھا۔