اس بیچ ظہیر کچھ بھی نہیں بولا اور میرا خیال ہے اب وہ بولنے کے قابل رہا بھی نہیں تھا۔ دلدل کے کیچڑ کی وجہ سے اس کی زبان نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا۔ کیونکہ اس کے منہ کو دیکھ کر لگ رہا تھا کہ اس کی زبان اندر سے کیسی ہوگی۔ لیکن ظہیر پھر بھی اپنی حالت پر قابو رکھے ہوئے تھا۔ جتنا ہو سکتا تھا، وہ میں کر رہا تھا۔ بیس منٹ لگے مجھے ظہیر کو صاف کرنے میں۔
اس بیچ میں اپنی تھکن اور انرجی کو بھول چکا تھا۔ یہاں اور رکنا خطرناک تھا۔ جنگل کا اندھیرا ہمارے لیے موت تھی۔ ہر طرف دلدل کی بو ہمارا دم سانس بند کرنے کے لیے کافی تھی۔
ظہیر کو صاف کرنے کے بعد میں نے رانا سے اپنے دونوں ہاتھوں پر بندھے ہوئے کپڑے کو چاقو سے کاٹنے کے لیے کہا۔ میں پوری کوشش کر رہا تھا کہ میرے ہاتھوں پر دلدل کا کیچڑ نہ لگ جائے۔ ظہیر بھی دھیرے دھیرے بیہوشی میں جانے لگا۔ میں نے ظہیر کے منہ پر تھپڑ مارنے شروع کیے تو ظہیر کو کچھ ہوش آیا۔ میں نے ظہیر کو سہارا دے کر بٹھایا۔
راجہ: ظہیر، کیا تم کسی حد تک چل سکتے ہو؟ تم بول تو سکتے نہیں، لیکن سر ہلا کر مجھے بتاؤ۔ اور خود کی جتنی ہمت ہے تمہارے اندر، اسے استعمال میں لاؤ۔ ورنہ کچھ ہی پلوں میں تم مر جاؤ گے۔ اگر تم یہیں مر گئے تو پھر تم اپنی ماں اور بہن کے پاس کیسے جا پاؤ گے؟
ظہیر کی آنکھیں تو نہیں کھلیں، لیکن اس کے چہرے کے تاثرات نے مجھے بتا دیا کہ وہ اندر سے کتنا خود سے لڑ رہا ہے۔ ظہیر خود کی جان بچانے کے اپنی بچی کچی ہمت باندھنے لگا۔
آدھے سے زیادہ سفر ہم نے طے کر لیا تھا۔ اب اگر ہم ہمت نہ ہار دیں تو شام سے بہت پہلے ہی ہم جنگل سے باہر نکل سکتے تھے۔ ورنہ ہم یہاں مارے جاتے اور میں یہاں مرنا نہیں چاہتا تھا۔ ہو سکتا ہے آگے ہمارے لیے خطرہ کم ہو۔ ظہیر اور سنجے دونوں کو اٹھانا میرے لیے ناممکن تھا۔
ظہیر اپنی ہمت کو اکٹھا کر کے کھڑا ہو گیا۔ وہ لڑکھڑایا تو ضرور، لیکن گرا نہیں۔ اور ایک دو قدم چل کر دیکھنے لگا۔ دس قدم چلنے کے بعد ہی ظہیر نیچے گر گیا۔ نیچے گرتے ہی ظہیر رونے لگا اور نہ میں سر کو جھٹکنے لگا۔
یعنی ظہیر اب خود کی لائف کو بچانے کے لیے نہیں چل سکتا تھا۔ اور اب مجھے دونوں کو اپنے کندھے پر اٹھا کر چلنا پڑے گا۔
میں نے رانا کی طرف دیکھا، اس کی آنکھوں میں پانی آ گیا تھا۔ وہ رانا نہیں، رانی تھی اور بڑی ہمت سے ہمارا ساتھ دے رہی تھی۔ ورنہ اس نے بھی دو دن سے کچھ بھی نہیں کھایا تھا۔ میں نے سنجے کو دیکھا، وہ بیہوش پڑا ہوا تھا۔
پھر میں نے ظہیر کی طرف دیکھا تو وہ اپنا سر “لیفٹ رائٹ۔۔ لیفٹ رائٹ” کر رہا تھا۔ ظہیر کی زبان بولنے کے قابل نہیں رہی تھی۔ وہ مجھے بتانا چاہتا تھا کہ “دیکھو راجہ، جتنی ہمت مجھ میں تھی، میں نے دکھا دی۔ میرے لیے خود کی لائف کو بچانا ممکن نہیں ہے۔ راجہ، دیکھو میں یہیں اسی جنگل میں ہی مر رہا ہوں اور میری ماں، میری بہن، اور میرے پاپا وہاں میری جدائی میں مر رہے ہیں۔”
لیکن میں اپنے دوستوں کو اسی طرح مرنے نہیں دے سکتا تھا۔ میں نے ایک بار اوپر آسمان کی طرف دیکھا۔ درختوں میں سے نیلا آسمان کہیں کہیں سے جھانک رہا تھا۔ میں نے آسمان کی طرف دیکھا اور پھر دل میں خود کی ہمت کو اکٹھا کیا اور پھر سے ایک بار رانا کو دیکھا۔
راجہ: ظہیر، جتنی مجھ میں ہمت ہے، وہ میں تم دونوں کو بچانے کے لیے لگا دوں گا۔ ظہیر، تم فکر مت کرو۔ اگر مرنا ہی ٹھہرا تو پھر ساتھ میں مریں گے۔ لیکن میں تم دونوں کو ایسی حالت میں چھوڑ کر نہیں جا سکتا۔
میرے اندر ایک عزم پلنے لگا کہ مجھے کیسے بھی کر کے دونوں کو اس جنگل سے باہر لے کر جانا ہے۔ اگر دونوں کو بچانے کے لیے مجھے مرنا بھی پڑے تو میں پیچھے نہیں ہٹوں گا۔ اور نہ ہی اپنی ہمت کو ٹوٹنے دوں گا۔
میں نے ظہیر کو اٹھا کر سنجے کے پاس لٹا دیا۔ اب مجھ میں کتنی انرجی تھی، وہ میں نہیں سوچ رہا تھا۔ مجھے بس سنجے اور ظہیر کو اٹھانا تھا اور اس جنگل سے باہر تک لے جانا تھا۔
میں نے رانا کو اپنے پاس آنے کو کہا۔ رانا میرے پاس آ گیا۔
راجہ: رانا، سنجے اور ظہیر کو اٹھانے میں میری مدد کرو۔
رانا مجھے حیرت سے دیکھنے لگا کہ میں کیسے ان دونوں کو اٹھا سکتا ہوں۔ لیکن میں نے رانا کو نظر انداز کیا۔ اب نہ تو مجھے سنجے کے کندھے کی فکر تھی اور نہ ہی خود کے اور ظہیر کے ننگے ہونے کی فکر تھی۔ بس فکر تھی ظہیر کے بدن پر لگے ہوئے دلدل کے کیچڑ سے۔
کہیں دلدل کا کیچڑ مجھے بھی نہ کچھ کر دے۔ پھر بھی میں یہ سب سوچنا چھوڑ کر ظہیر اور سنجے کے سر کے بال پکڑ لیے اور دونوں کو اٹھا دیا۔ دونوں ہی آدھے بیٹھ گئے تو میں نے رانا کی طرف دیکھا۔
اب رانا بھی سمجھ گیا تھا کہ اسے کیا کرنا ہے۔
میں ظہیر اور سنجے کے درمیان میں بیٹھ گیا اور دونوں کو کمر سے پکڑ کر کھڑا کرنے لگا۔ مجھے بڑی پریشانی ہونے لگی۔ لیکن کرنا تھا اور سوچنا تو بالکل بھی نہیں تھا۔ ایسا کرنا ویسے بھی آسان نہیں تھا۔ اور میں خود کی بگڑتی ہوئی حالت کو بھول کر بس اپنا زور لگا کر دونوں کو ہی کھڑا کرنے میں لگا رہا۔ میں نے دونوں کو کس کے پکڑا ہوا تھا۔ مجھے بڑی پریشانی ہو رہی تھی۔ لیکن دونوں کی ہی لائف کو بچانے کے لیے مجھے یہ سب کرنا تھا۔ بھلے ہی مجھ میں دم نہ ہو۔
راجہ: رانا، مجھے پیچھے مت گرنے دینا اور اگر میں اٹھ نہ پاؤں تو مجھے نیچے سے میرے پیچھواڑے پر زور لگا کر کھڑا کر دینا۔
رانا بھی سمجھ گیا۔ اس نے ہاں میں سر ہلا دیا۔ یہ کام رانا کے لیے بھی بہت ہی مشکل تھا۔ لیکن یہاں مشکل کہاں نہیں تھی؟ ہر ایک چل رہی ہماری سانس بھی مشکل میں تھی۔ اور اگر ہم اپنی مشکل پر دھیان دیتے تو بس کچھ ہی دیر میں ہماری موت کنفرم تھی۔
اور پھر میں نے اپنا جتنا دم تھا لگا دیا اور دونوں کو کس کے پکڑتے ہوئے اٹھنے لگا۔ مجھے بڑی پریشانی ہونے لگی۔ لیکن میں نے اپنی پریشانی اور اپنی کمزوری کو بھول کر بس دونوں کو اٹھانے کے لیے جتنا دم تھا وہ لگانے لگا۔ میں نے دونوں کو گرنے نہیں دیا، لیکن دونوں کو ہی اٹھانے میں پریشانی ہونے لگی۔ کیونکہ میرا خود کا کندھا بھی زخمی تھا، اس لیے پریشانی تو ہونی ہی تھی۔ پھر میں نے خود کے درد کو اپنے دماغ سے نکال دیا۔
رانا میرے پیچھواڑے پر دونوں ہاتھ رکھ کر مجھے اوپر اٹھانے لگا۔ لیکن رانا کو بھی پریشانی ہونے لگی۔ تو پھر اس نے اپنی پیٹھ کو میرے پیچھواڑے کے نیچے دے کر مجھے اوپر اٹھنے کے لیے سہارا دینے لگا۔ رانا کی خود کی بیٹری ختم ہو چکی تھی۔