میں تو پھر بھی ایک گھنٹہ سمندر کے پانی میں نہا کر اپنا سالوں جما ہوا میل اتار آیا تھا، لیکن رینو ابھی بھی ویسی کی ویسی تھی، لڑکوں جیسی شکل و صورت والی اور پورے بدن پر جمی ہوئی سالوں کی گرد۔ رینو خوبصورت ہے یا نہیں، میں بھی خوبصورت ہوں یا نہیں۔۔ ہم دونوں نے ہی ایک دوسرے کے دل کی خوبصورتی کو دیکھتے ہوئے ایک دوسرے کو اپنا لیا تھا۔ تو پھر رینو اگر مجھے خود میں سمائے تو میں کیسے سکون سے نہیں بھر سکتا تھا؟
میرا چہرہ آنسوؤں سے بھیگ چکا تھا، لیکن چہرے پر پوری دنیا کا سا سکون چھا گیا تھا۔ میں نے رینو کو خود سے الگ کیا اور اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگا۔ رینو بھی میرے درد میں آنسو بہانے لگی تھی۔ یہی تو دل کی چاہ ہوتی ہے۔ کسی کے لیے لڑا جا سکتا ہے، لیکن آنسو ہر کسی کے لیے نہیں نکلے جا سکتے۔
یہاں ہمارے بیچ دلوں کا وہ کنکشن جڑ چکا تھا، جو کم ہی کہیں دیکھنے کو ملتا ہے۔ رینو بھی میری آنکھوں میں دیکھنے لگی اور میری ہی طرح سے وہ بھی مجھے بھیگی ہوئی آنکھوں سے دیکھنے لگی تھی۔
میں نے رینو کو پھر سے اپنی بانہوں میں قید کیا اور اسے خود میں پھر سے محسوس کرنے لگا۔ اب میرا چہرہ پرسکون ہو گیا تھا۔ مجھے کوئی غم نہیں تھا۔ اس وقت رینو تھی اور میں تھا۔ اگر کچھ تھا تو پاس میں سمندر اور سنجے، ظہیر سو رہے تھے۔ تو اوپر آسمان میں چمک رہے چاند اور ستارے تھے۔ وہ سب بھی ہمارے لیے خوش تھے۔ اگر ملن دل سے ہو، تو سننے میں آیا ہے کہ آس پاس کی ہر ایک چیز چمکتی ہوئی لگنے لگتی ہے۔ آج ہمیں چاند اور ستارے کچھ زیادہ ہی چمکتے ہوئے لگ رہے تھے۔ یا یہ ہمارے دلوں کے چمکنے کی وجہ سے ہمیں ایسا لگ رہا تھا۔۔ کچھ دیر میں رینو کو محسوس کرنے میں لگا رہا، اور رینو مجھے خود میں محسوس کر رہی تھی۔
میں نے رینو کو خود سے الگ کیا اور رینو کی آنکھوں میں دیکھنے لگا۔ میرے دل نے مجھے رینو کی آنکھوں کو چومنے کے لیے بولا۔ تو میں نے دل کی مانتے ہوئے رینو کے گالوں کو دونوں ہاتھوں میں تھام کر رینو کے چہرے کو تھوڑا اوپر اٹھایا اور رینو کی آنکھوں پر اپنے جلتے ہوئے ہونٹ رکھ دیے۔
میرے اور رینو کے دل میں سرور سا اترنے لگا۔ مجھے کوئی جلدی نہیں تھی اور نہ کسی قسم کی کوئی بے چینی۔ میں باری باری دھیرے دھیرے کر کے رینو کی دونوں ہی آنکھوں کو چومنے لگا۔ اور رینو اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو میرے سینے پر چلانے لگی۔ ہمارے دل خوشی سے بھرنے لگے۔
کھانے پینے کی بھوک کے علاوہ کوئی بھوک تھی جو ہمیں مٹتی ہوئی محسوس ہونے لگی۔ رینو کے لمبے ناخن بھی میرے بدن میں ایک سرور سا انجیکٹ کر رہے تھے۔
آج میرا دل مجھے بتائے جا رہا تھا، اور میں اپنے دل کی سنتے ہوئے دل کے پیچھے پیچھے جانے لگا۔ رینو کی آنکھیں چومتے ہوئے میرے ہونٹوں نے رینو کے گالوں کی طرف اپنا سفر شروع کر دیا اور رینو کے ہاتھوں کی انگلیوں نے میرے سینے سے میرے پیٹ اور پھر کمر کو بھی ٹٹولنا شروع کر دیا۔
رینو اور میرے دل کی تال ملی ہوئی تھی۔ میرے ہونٹوں کے رخ بدلتے ہی رینو کے ہاتھوں کی انگلیوں نے بھی اپنا رخ بدل لیا تھا۔
میرے گیلے ہونٹوں نے رینو کے گالوں کی گرد کو بغیر سمندر کے پانی کے ہی صاف کرنا شروع کر دیا۔ بھلا سمندر کا پانی ایک پیار کرنے والے کے ہونٹوں سے بڑھ کر بھی ہو سکتا ہے؟
وہ سمندر ہے۔۔ بھیانک طوفان اپنے اندر چھپائے ہوئے۔ اور یہ ہمارا پیار ہے، جو زندگی دینا جانتا ہے، خوشیاں بانٹنا جانتا ہے، سکون دینا جانتا ہے۔ جو دل کو چمکا دے، کیا وہ رینو کے گالوں کو ایک نئی چمک نہیں دے سکتا؟
میں باری باری رینو کے گالوں کو چومنے لگا۔ اور رینو سرور میں ڈوبتی ہوئی اپنی آنکھیں بند کر چکی تھی۔ لیکن رینو کے ہاتھ مسلسل اپنا پیار میرے بدن سے وصول کرنے میں لگے ہوئے تھے۔
رینو: راجہ، کتنا سکون مل رہا ہے نا؟
میں رینو کے گالوں پر اپنے ہونٹ رکھے ہوئے ہی۔۔
راجہ: ہاں رینو، مجھے بھی آج زندگی میں پہلی بار ایسا سکون مل رہا ہے۔
میرے ہونٹ اور الفاظ رینو کے گالوں میں جذب ہونے لگے۔ ہم دونوں کے ہی ذہنوں پر مدہوشی طاری ہونے لگی تھی۔ رینو کا نہانا رینو اور میں بھی بھول چکے تھے۔
میں اپنے ہونٹوں سے رینو کے نرم نرم گالوں کو اپنے ہونٹوں سے محسوس کرنے لگا۔ رینو کے گالوں پر سے گرد کے ہٹنے سے رینو کے گالوں نے اور بھی میرے دل کو لبھانا شروع کر دیا۔ رینو کے گالوں کی حرارت نے میرے دل کے ساتھ میرے بدن میں بھی سرسراہٹ بھرنا شروع کر دی۔
جذبات کی وجہ سے میرا سو چکا لنڈ ایک بار پھر سے کھڑا ہونے لگا تھا، جو رینو کی جانگھوں کے درمیان چھپی ہوئی چوت سے ٹکرانے لگا۔ رینو نے ایک سسکی لی اور تھوڑی سی آنکھیں کھول کر مجھے دیکھا، میری بھی نظر رینو کی آنکھوں پر پڑی۔ رینو کی آنکھوں میں مجھے سرور اور نشہ سا نظر آیا۔ اتنا سکون تھا ہم دونوں کی ہی آنکھوں میں کہ بیان کرنا ممکن نہیں ہے۔
ہماری آنکھیں کھلیں تو کچھ ہمارے دلوں میں چینج سا آیا۔ بھلے ہی میرا لنڈ رینو کی چوت سے ٹکرا رہا تھا، لیکن اندر من میں کوئی بھی بے چینی نہیں تھی، اس کے برعکس ایک عظیم سکون سا تھا۔
میں نے رینو کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے ہی رینو کے کپڑے اتارنے شروع کر دیے۔
پہلے میں نے رینو کی پسینے اور گرد میں لتھڑی ہوئی قمیض کو اٹھا کر اتارنے لگا۔ جب قمیض رینو کے بوبز تک آئی تو رینو میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اپنی بانہوں کو اٹھا کر میرے کندھے پر رکھ دیا تھا۔
رینو کی قمیض میں نے رینو سے الگ کی تو وہ گھوم کر رینو کے میرے کندھے پر رکھے ہوئے ہاتھوں کے اوپر آ گئی تھی۔ رینو نے اپنے ہاتھ نہیں ہٹائے تھے۔
میں نے ویسے ہی رینو کے بوبز کو کس کر بندھے ہوئے کپڑے کو الگ کیا۔ رینو کے بوبز ہوا میں اچھل کر پھر سے اپنی جگہ پر جا کر ٹھہر گئے۔ مجھے ایسا محسوس ہوا تھا، کیونکہ میں تو رینو کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔
وہ برا نہیں تھی۔ ایک دو میٹر کا کپڑا تھا جو رینو نے اپنے بوبز پر کس کے لپیٹا ہوا تھا۔ میں نے اتارنے سے پہلے اس کپڑے کو ایک بار نیچے کھینچ کر رینو کے بوبز کو اس کپڑے سے آزاد کیا اور پھر اسے نیچے پھینک دیا، جو رینو کے چوتڑوں سے ہوتا ہوا نیچے ساحل کی ریت پر گر گیا۔
ایک بات میں نے آپ کو بتائی نہیں تھی۔ جب بھی میرا لنڈ رینو کی چوت کو چھوتا تھا، تو میرے لنڈ نے مجھے بتا دیا کہ رینو کی چوت پر پینٹی شینٹی نہیں ہے۔ بس لمبے لمبے بال ہیں۔ انہی بالوں کی وجہ سے میرا لنڈ پورا رینو کے اندیکھی چوت کے بالوں تک اپنی رسائی حاصل نہیں کر پایا تھا۔
اب باری تھی رینو کی شلوار کی۔