ٹاپ کلاس کہانیاں پڑھنے کے لیے ہمارے فورم کو جوائن کریں جوائن کریں

تلاشِ زِیست 05

 

جان بچانے کا حق صرف ہم تینوں کو ہی تو نہیں تھا۔ اگر ہمارے ساتھ ایک اور قیدی اگر مل بھی گیا تھا تو ہم برا کیسے مان سکتے تھے۔ آخر وہ بھی تو ہماری ہی طرح یہاں پر جبراً قید کیا گیا ایک انسان ہی تھا۔ 

چٹان کی آڑ میں آتے ہی ہم نے کچھ لمحے ضائع کیے اپنی تیز چل رہی سانسوں کو قابو کرنے میں۔ لیکن ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں تھا۔

راجہ: سنجے، تم مشین گن چلاؤ گے نا؟ اب ہمارے پاس اس مشین گن کے سوا کوئی اور آپشن نہیں ہے۔ 

سنجے: (تیز سانس لیتے ہوئے) راجہ، گن کا ایکسپیرینس تو مجھے ہے، لیکن یہ مشین گن بہت ہی ہیوی ہوتی ہے، تو اس کا جھٹکا برداشت کرنا سب سے مشکل کام ہے۔ 

راجہ: سنجے، اب ہمارے پاس ٹائم نہیں ہے ضائع کرنے کے لیے۔ گارڈز کچھ ہی پل میں یہاں پہنچتے ہی ہوں گے۔ تو کوشش کرو۔ ویسے ہم کوشش کیے بغیر تو نہیں بچ پائیں گے۔ ورنہ یہیں مارے جائیں گے۔ اور تم تو جانتے ہی ہو، اب اگر ہم پکڑے گئے تو ہماری کیسی بھیانک موت ہوگی۔ اس لیے کتے کی موت مرنے سے بہتر ہے کہ کوشش کر لی جائے۔ 

پھر میں نے ظہیر سے کہا:   ظہیر، سانس بعد میں بحال کر لیں گے۔ ابھی تم چٹان سے جھانک کر دیکھتے رہو۔ جیسے گارڈ پاس آئیں تو مجھے بتانا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم آپس میں مشورہ ہی کرتے رہ جائیں اور وہ گارڈز سر پر پہنچ جائیں۔ 

ظہیر: ہاں، ٹھیک ہے۔ میں دیکھتا ہوں۔ 

یہ بول کر ظہیر چٹان سے جھانکنے لگا۔ نیا لڑکا خود ہی چٹان کے دوسری طرف سے جھانکنے لگا۔ 

سنجے نے مشین گن کی بیلٹ کو اپنے گلے سے گزارتے ہوئے مشین گن کو فائرنگ اسٹائل میں پکڑ لیا۔ ہاتھ میں مشین گن لیے سنجے ایک دم ڈاکو ہی لگ رہا تھا۔ سر اور داڑھی کے لمبے بالوں کی وجہ سے ہم تینوں تو ویسے ہی ڈاکو ہی دکھنے لگے تھے، پر مشین گن کی وجہ سے سنجے سچ میں ہی ایک ڈاکو لگ رہا تھا۔ سنجے کے چہرے پر گھبراہٹ تھی۔ پہلی بار اتنی خطرناک مشین گن جو ہاتھ میں پکڑی ہوئی تھی۔ اور پھر کوئی ایکسپیرینس بھی نہیں تھا۔ اور اوپر سے لگنے والے جھٹکے نے سنجے کو بہت ہی نروس کیا ہوا تھا۔ ایسی سچویشن میں سنجے کی حالت خراب تو پھر ہونی ہی تھی۔ 

ہمارے پیچھے 20 کے قریب گارڈز آ رہے تھے۔ اور سبھی کے پاس بھی مشین گنیں ہی تھیں۔ اور وہ سب کے سب ایکسپرٹ بھی تھے۔ لیکن ہمارے پاس ایک مشین گن تھی اور ہمیں چلانی بھی نہیں آتی تھی۔ 

اب اوپر والا ہی ہمیں بچا سکتا ہے۔ ورنہ ایسی کنڈیشن میں اتنا دم کہاں تھا ہم میں۔ ہم کوئی پیشاور گینگسٹر نہیں تھے۔ ہم تو صرف ایک مزدور یا پھر قیدی تھے۔ 

راجہ: سنجے، ایک چھوٹا سا راؤنڈ چلا کر دیکھ۔ اس سے دو کام ہو جائیں گے۔ ایک تو گارڈز کا آگے بڑھنا رک جائے گا۔ اور دوسرا، تم خود کو ٹیسٹ بھی کر لو گے۔ 

سنجے کنفیوز تو تھا ہی، لیکن اسے میری بات بھی صحیح لگی۔ اور یہاں سوچنے کا ٹائم نہیں تھا۔ 

سنجے: ٹھیک ہے، میں کوشش کرتا ہوں۔ تم بس مجھے پیچھے مت گرنے دینا۔ بہت زور کا جھٹکا لگے گا مجھے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ بیلنس بگڑ جائے اور ہم اپنی ہی گولیوں سے مارے جائیں۔ 

راجہ: ظہیر، وہ گارڈز کس طرف اور کتنی دور ہیں؟ 

ظہیر: میرا خیال ہے کہ وہ بھی چھوٹی چھوٹی چٹانوں کے پیچھے چھپتے ہوئے آ رہے ہیں۔ ویسے وہ سیدھے ہماری طرف آتے تو اب تک ہم تک پہنچ چکے ہوتے۔ ضرور انہیں ہمارے پاس موجود مشین گن نظر آ گئی ہوگی۔ 

راجہ: پھر تو بڑی گڑبڑ ہو جائے گی۔ ہمیں تو پتا بھی نہیں چلے گا اور وہ ہمارے پاس پہنچ جائیں گے۔ 

میں آس پاس دیکھنے لگا کہ کہیں ہمارے لیے کوئی اور سیف جگہ ہے یا نہیں۔ مجھے کچھ فاصلے پر ایک اور چٹان نظر آئی۔ اگر ہم کسی طرح اس چٹان تک پہنچ جائیں، تو وہاں سے جنگل تک ہم جلدی اور سیف پہنچ جائیں گے۔ لیکن اس چٹان تک پہنچنا ہی جان ہتھیلی پر رکھنے کے برابر تھا۔ گارڈز کے سامنے سے بھاگنا تھا ہمیں۔ اور اس کے علاوہ کوئی آپشن نہیں تھا۔ اگر گارڈز نے گولیاں چلائیں تو لمحوں میں ہی ہم سیدھا اوپر پہنچ جائیں گے۔ 

لیکن اب اس کے علاوہ کوئی آپشن بھی نہیں تھا۔ اور چانس لیے بغیر ہم بچنے والے نہیں تھے۔ یہاں بیٹھے بھی موت تھی تو بھاگنے میں بھی موت تھی۔ لیکن زندگی کو بچانے کے لیے کچھ تو کرنا ہی تھا۔ 

راجہ: سنجے، تم ایک چھوٹا راؤنڈ فائر کرو۔ انہیں بھی پتا چلے کہ ہم تک پہنچ پانا ان کے لیے آسان نہیں ہے۔ 

سنجے ہمت کر کے چٹان کی ایک سائیڈ آیا اور جس طرف سے کچھ گارڈز دکھ رہے تھے، اس طرف ایک راؤنڈ فائر کرنے کے لیے ریڈی ہو گیا۔ میں سنجے کے پیچھے اسے سپورٹ دینے کے لیے کھڑا ہو گیا۔ 

میں نے سنجے کی پیٹھ پر اپنے دونوں ہاتھوں کا دباؤ بڑھا دیا تھا اور سنجے نے اوپر والے کا نام لے کر گارڈز کی طرف مشین گن کر کے ٹریگر دبا دیا۔ 

دھڑ۔۔ دھڑ۔۔ دھڑ۔۔ دھڑ۔۔ دھڑ۔۔ دھڑ۔۔ کی آواز گونجی اور دور دو گارڈز کی چیخوں کے ساتھ ہی سنجے کی بھی چیخ نکل گئی۔ 

سنجے: (چیختے ہوئے) میرا کندھا۔۔ 

جتنا میں نے سوچا تھا، مشین گن کا جھٹکا اس سے بھی بڑھ کر جھٹکے دار تھا۔ ایک بار تو میں بھی ہل گیا۔ میرے سامنے سنجے تھا تو اس کی کیا حالت ہوئی ہوگی۔ میں نے سنجے کو سپورٹ دے کر نیچے بٹھایا اور جیسے ہی میری نظر سنجے کے کندھے پر پڑی تو مجھے شاک لگا کہ سنجے کا کندھا اپنی جگہ سے ہی ہل گیا تھا۔ 

راجہ: سنجے، تم نے نشانہ تو صحیح لگایا ہے۔ لیکن لگتا ہے کہ جھٹکے کی وجہ سے تمہارا کندھا اتر گیا ہے۔ لیکن ابھی ہمیں مشین گن کی ضرورت ہے اور اسے اب کون چلائے گا؟ 

سنجے: (کراہتے ہوئے) راجہ، مجھ سے جتنا ہو سکا، میں نے کر دیا۔ اب تم ہی بتاؤ، میں کیا کر سکتا ہوں؟ اب تو میں بھی زخمی ہو گیا ہوں اور اب مجھ سے یہ مشین گن نہیں چلے گی۔ 

ظہیر اور دوسرا لڑکا بھی ہمارے پاس ہی آ گئے تھے۔ 

راجہ: تم دونوں یہاں مت رکو، ابھی خطرہ ٹلا نہیں ہے۔ اور وہ کسی بھی وقت یہاں آ سکتے ہیں۔ 

دونوں ہی اپنی جگہ پر واپس پہنچ گئے۔ اور پھر دونوں نے ہی بتایا کہ گارڈز کی موومنٹ رک گئی ہے۔ 

راجہ: سنجے، میرا جسم مشین گن کا جھٹکا سہہ سکتا ہے۔ کیا میں اسے چلا سکتا ہوں؟ دیکھو سنجے، اب ہمیں ٹائم ویسٹ نہیں کرنا چاہیے۔ وہ سامنے جو بڑی چٹان نظر آ رہی ہے، اگر ہم وہاں اس چٹان کے پیچھے پہنچ گئے تو بچ سکتے ہیں۔ بس ایک اور چھوٹا سا راؤنڈ فائر کرتے ہی ہم سب اس چٹان کی طرف بھاگ پڑیں گے۔ اگر زندگی ہوئی تو بچ جائیں گے۔ ورنہ یہاں تو یقینی موت ہے۔ اور اگر ہم اس چٹان کے پیچھے پہنچ گئے تو ہمارے لیے خطرہ ختم ہو جائے گا۔ کیا کہتے ہو؟ 

سنجے: راجہ، ہم میں سب سے زیادہ دم تم میں ہے اور تم نے جو بھی کہا ہے وہ بھی ٹھیک ہے۔ سچ میں ہی ہمارے   پاس نہ تو کوئی اور راستہ ہے اور نہ ہی ٹائم۔ تم مشین گن کی بیلٹ کو اپنے گلے میں ڈالو۔ جان بچانے کے لیے ہمت تو کرنی ہی پڑے گی۔ 

ایک تبصرہ شائع کریں (0)
جدید تر اس سے پرانی