اندازے کے مطابق آدھی رات گزر چکی تھی اور کسی نے بھی کسی سے کوئی بات نہیں کی تھی۔ ڈر تھا کہ کوئی آس پاس درندہ نہ ہو اور ہماری آواز سن کر ہمارے لیے خطرہ نہ بن جائے۔ وقفے وقفے سے سنائی دینے والی درندوں کی بھیانک آوازیں بھی ہمیں کیسے سکون سے جینے دیتیں؟ ہمارا خون خشک ہو چکا تھا اور گلا تو کب کا پیاس اور خوف کے مارے سوکھ گیا تھا۔ جنگل کا بھیانک سناٹا اور پھر کیڑوں کی آوازیں ہمارے دلوں کی دھڑکن کو روکنے کے لیے کافی تھیں۔
ساری رات ڈرتے ہوئے گزری۔ اور پھر اوپر والے نے ہمارے لیے زندگی کی ایک نئی صبح لکھ دی۔ اب آگے ہمارے ساتھ کیا ہونے والا تھا، ہم نہیں جانتے تھے۔ لیکن ہم ایک بھیانک رات سے بچ نکلے تھے۔ یہ بھی ہمارے لیے بہت تھا۔ صبح کی روشنی نمودار ہونا شروع ہوگئی ۔
ظہیر: راجہ، رات تو ہماری کٹ ہی گئی ہے۔ اب آگے کیا کرنا ہے؟
راجہ: (دھیرے سے) ابھی کوئی بھی نہ بولے۔ جنگلی جانور ابھی یہیں آس پاس ہی ہیں۔ وہ ہماری آواز نہ سن لیں۔ اس لیے ابھی ہمیں دو گھنٹے اور اسی حالت میں گزارنے ہوں گے۔
دل تو کسی کا بھی نہیں تھا چپ رہنے کا، اور درخت پر لیٹنے کا۔ سب ہی تھکن سے چور تھے۔ اور خود کو بڑی مشکل سے درخت کی شاخ پر سنبھالے ہوئے تھے۔ لیکن اس کے علاوہ کوئی چارہ بھی تو نہیں تھا ہمارے پاس۔
جنگل میں کچھ کچھ صبح کی روشنی تھی، تو ہم اوپر لیٹے ہوئے ہی نیچے سے جنگلی جانوروں اور درندوں کو گزرتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔ زیادہ تو نہیں تھے، مگر ہمارے لیے تو ایک ہی درندہ کافی تھا۔ ایک ہی درندہ ہم سب کا خاتمہ کر سکتا تھا۔
دو گھنٹے بھی گزر گئے۔ اور آخری آدھے گھنٹے میں کوئی بھی درندہ یا جانور نہیں گزرا۔ تو ہم نے دل کو مضبوط کرتے ہوئے نیچے اترنے کا فیصلہ کیا۔
خطرہ کم ہوتے ہی سنجے کو پھر سے اپنے کندھے میں درد کا احساس ہونے لگا۔ پھر بھی سنجے درد کو برداشت کرتے ہوئے کسی طرح نیچے اترنے میں کامیاب ہو گیا۔ سنجے کا ایک کندھا تو کام چھوڑ ہی چکا تھا، تو ہم نے جیسے اسے کل رات کو چڑھایا تھا، ویسے ہی سنجے کو اترنے میں بھی مدد دی۔
نیچے اتر کر ہم سب نے کچھ دیر اپنے اکڑ چکے جسم کو کھولنے کے لیے ایکسرسائز کرتے رہے۔ دس منٹ بعد ہم جنگل سے باہر کی طرف جانے لگے۔
ابھی جنگل میں خطرہ تھا۔ اور کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے ہمیں اچھی طرح سے سوچنا تھا۔ اور اس کے لیے ہمیں کسی محفوظ جگہ کی ضرورت تھی جہاں ہمیں گارڈز کا خطرہ نہ رہے۔ اور جنگل میں موجود جنگلی جانوروں سے بھی جان کا خطرہ نہ رہے۔ سب ہی تھکن اور بھوک پیاس کے مارے دھیرے دھیرے چل رہے تھے۔ سب کی حالت بہت نازک تھی۔ خاص کر سنجے، اس کی حالت ہم سب سے بھی زیادہ خراب تھی۔ لیکن پھر بھی ہمت کرتے ہوئے وہ ہمارا ساتھ دے رہا تھا۔ سنجے نے ایسے ہی تو نہیں خود کو خطرے میں ڈالتے ہوئے ہمارا ساتھ دیا تھا۔ ہماری ہی طرح سنجے کو بھی اپنی زندگی پیاری تھی۔ ہم سب خود کی زندگی کو بچانے کے لیے اپنی ہمت کو ٹوٹنے نہیں دے رہے تھے۔ دھیرے دھیرے چلتے ہوئے ہم جنگل کے باہر پہنچ گئے۔
راجہ: ظہیر، تم چھپ کر میدان کی طرف دیکھو۔ کہیں گارڈز کی موومنٹ شروع تو نہیں ہو گئی؟
ظہیر میری طرف لاچاری سے دیکھنے لگا۔
راجہ: اچھا چلو، تم بیٹھو، میں خود ہی دیکھ لیتا ہوں۔
میں اتنا بول کر جس طرف سے ہم کل بھاگ کر آئے تھے، اس طرف جا کر دیکھنے لگا۔ لیکن مجھے کہیں بھی کسی قسم کی موومنٹ نظر نہیں آئی۔ میں وہیں کھڑا ہو کر سب طرف دیکھنے لگا۔ ہمیں جنگل میں جانا چاہیے تھا یا یہاں سے کوئی اور راستہ ہمیں کسی سیف جگہ پر لے جا سکتا تھا۔ لیکن مجھے کوئی بھی ایسا راستہ نظر نہیں آیا۔ وہاں ہر طرف ہی گارڈز کا خطرہ تھا اور ہم یہاں سے نکل بھاگنے میں کامیاب نہیں ہو سکتے تھے۔ میں واپس سب کی طرف لوٹ گیا۔ وہ سب مجھے ہی دیکھنے لگے۔
راجہ: نہیں، گارڈز کی کسی طرح کی کوئی بھی موومنٹ نظر نہیں آ رہی ہے۔ میں کچھ اور بھی دیکھنے کی کوشش میں لگا ہوا تھا کہ شاید جنگل سے گزرے بغیر ہم کسی سیف جگہ پر پہنچ جائیں۔ لیکن مجھے جنگل سے گزرے بغیر کوئی اور راستہ نظر نہیں آیا۔
ظہیر: تو پھر اب ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
رانا اس بیچ کچھ بھی نہیں بول رہا تھا۔ اور سنجے اپنے درد کو لیے نیچے زمین پر لیٹا ہوا تھا۔ سنجے اس وقت ہمیں کوئی بھی مشورہ دینے کے قابل نہیں تھا۔ اور رانا بھی اس سب میں کچھ بھی نہیں کر سکتا تھا۔ میرے پاس بھی کوئی راستہ نہیں تھا۔ لیکن کچھ تو کرنا ہی تھا۔ اب سب سے پہلے پیٹ پر دھیان دینا تھا، کیونکہ کچھ بھی کھائے پیے بغیر ہمارا جنگل میں سفر ممکن نہیں تھا۔
سنجے: راجہ، یار، سوچنے میں اتنا ٹائم مت لگاؤ۔ کسی جگہ پر پانی اور کچھ کھانے پینے کا بھی جگاڑ لگاؤ۔ درد کے ساتھ ساتھ اب کمزوری بھی ہونا شروع ہو گئی ہے۔
ظہیر: ہاں راجہ، جلدی ہی کچھ سوچو، میرا خود کا دماغ بھی کچھ کام نہیں کر رہا۔
راجہ: تو پھر ایسا کیوں نہ کریں کہ ہم جنگل میں بستی کی طرف جو راستہ جاتا ہے، اسے چھوڑ کر دوسرے راستے سے جنگل سے باہر نکلنے کی کوشش کریں۔ زندگی تو ہماری اسی جنگل میں رہتے ہوئے ہر پل ہی خطرے میں ہے۔ ہم کوئی بھی راستہ استعمال کریں تو جان کا خطرہ 100% کنفرم ہے۔ تو کیوں نہ ہم اس بار وہ راستہ استعمال کریں جو کبھی بھی کسی بھی قیدی نے استعمال نہ کیا ہوگا۔ ہو سکتا ہے اس راستے پر چل کر ہمیں زندگی مل جائے۔
ظہیر: راجہ، جو تم کو صحیح لگتا ہے وہ کرو۔ بس اب دیر مت کرو۔ یہاں رہنا ہمارے لیے سیف نہیں ہے۔ گارڈز کسی بھی وقت ہمیں ڈھونڈنے کے لیے نکل سکتے ہیں۔ اور اب تو بھوک اور پیاس کے مارے حالت بہت ہی خراب ہونے لگی ہے۔ ہمیں جلد ہی کچھ کھانے کو ملنا چاہیے۔ ورنہ گارڈز اور جنگلی جانوروں کے ہمیں مارنے سے پہلے ہی پیاس کی وجہ سے ہم سب مر جائیں گے۔
ظہیر کی بات سن کر میں پھیکی ہنسی ہنسنے لگا۔
دونوں نے ہی سب کچھ مجھ پر چھوڑ دیا تھا۔ اب میں اکیلا کیسے صحیح فیصلہ کر سکتا تھا؟ ضروری تو نہیں کہ میں جو بھی فیصلہ لوں وہ صحیح ہی ہوگا۔ ہم سب کو مل کر صحیح سے فیصلہ کرنا تھا، لیکن کوئی بھی مجھ سے مشورہ نہیں کر رہا تھا۔ اور مجھے لیڈر ہی سمجھ لیا تھا۔ بات تو میری شان کو بڑھانے والی تھی، لیکن یہاں بات شان کی نہیں، صحیح فیصلے کی تھی۔ اور جو میرا فیصلہ تھا، میں کیسے جان سکتا تھا کہ وہ صحیح ہے؟
میں نے دل مضبوط کر پھر خود کے ہی فیصلے پر چلنے کا سوچا۔ جب کوئی بھی مجھے مشورہ نہیں دے رہا تھا تو پھر مجھے ہی سب کرنا تھا۔
راجہ: چلو پھر چلتے ہیں اور ڈھونڈتے ہیں کہ اگر کچھ کھانے یا پینے کے لیے مل جائے۔