حیرت کی بات تھی کہ رانا کسی بھی طرح کی بات نہیں کر رہا تھا۔ ہماری ہی طرح وہ بھی بھوکا اور پیاسا تھا۔ لیکن وہ ہم سب کی طرح شور نہیں مچا رہا تھا۔
رانا کا اسٹائل مجھے اچھا لگا۔ اس کا خاموش چہرہ شانتی سے بھرا تھا اور وہ خوفزدہ بھی نہیں تھا۔ پتا نہیں کیوں، پر اسے دیکھ کر مجھے کوئی پریشانی نہیں تھی۔ ہاں، بس وہ مجھے کچھ عجیب سا ضرور لگ رہا تھا۔
پھر اوپر والے کا نام لیتے ہوئے بستی کی طرف جانے والے راستے کو چھوڑ کر ایک نئے راستے کی طرف چل پڑے۔ اس راستے کے بارے میں ہم صحیح سے تو نہیں جانتے تھے، لیکن اتنا ضرور تھا کہ یہ راستہ سب سے خطرناک تھا۔ یہاں سے ہمارا بچ کر نکل جانا ممکن تو نہیں تھا، لیکن پھر بھی اپنی جان بچانے کے لیے ہمیں اسی راستے کا انتخاب کرنا پڑا۔ اگر اوپر والے نے ہمارے لیے زندگی لکھی ہوئی ہے تو ہم اس خطرناک راستے سے بھی زندہ بچ کر نکلنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اس پورے جنگل میں اور جنگل کے باہر ہمارے لیے موت ہی موت تھی۔
یہ راستہ جزیرے کی لمبائی والا تھا۔ اسے پار کرنے کے لیے ہمیں کافی دن لگنے والے تھے۔ اگر سنجے کی حالت کو دیکھا جاتا تو یہ راستہ صحیح نہیں تھا، کیونکہ سنجے کے لیے اتنا لمبا سفر طے کرنا ممکن نہیں تھا۔ لیکن ایک سچ یہ بھی تھا کہ یہ راستہ طے کر لینا سنجے کے ساتھ ساتھ ہم تینوں کے لیے بھی اتنا ہی مشکل اور خطرناک تھا جتنا سنجے کے لیے تھا۔ ہم سب کے لیے موت کنفرم ہی کنفرم تھی۔
سو اس لیے ہم زیادہ نہ سوچتے ہوئے اسی راستے پر چل پڑے۔ جیسے جیسے ہم آگے بڑھ رہے تھے، ویسے ویسے جنگل اور بھی خطرناک ہوتا جا رہا تھا۔ ابھی تک کوئی بھی کچھ بھی ایسا ہمیں نہیں دیکھا تھا جو ہمارے لیے جان لیوا ہو۔ جنگل میں سناٹا تھا۔ لیکن اس طرف ہمیں کوئی بھی جنگلی جانور نظر نہیں آیا۔ دو گھنٹے چلنے کے بعد ہم سب کی ہی حالت تھکن، بھوک اور پیاس کی وجہ سے بہت ہی زیادہ خراب ہونے لگ گئی تھی۔ لیکن ابھی تک ہمیں ہمارے پیٹ کو بھرنے کے لیے کچھ نہیں ملا تھا۔
سب سے زیادہ سنجے کی حالت خراب تھی۔ سنجے کو درد تو تھا ہی، لیکن بھوک کی وجہ سے سنجے سے چلنا ممکن نہیں رہا۔ سنجے اچانک سے لڑکھڑا کر نیچے گر پڑا۔ سنجے نیچے گرتے ہی پانی پانی بولنے لگا۔
سنجے کی حالت دیکھ کر ہمیں اندازہ ہوا کہ سنجے اس وقت صحیح سے ہوش میں نہیں ہے۔ ہمیں سنجے کی بگڑی ہوئی حالت کا پورا پورا احساس نہیں ہوا تھا۔ اور نہ ہی سنجے نے ہمیں بتایا تھا۔
اس لیے سنجے اچانک سے گر پڑا تھا۔ مجھے سنجے کو دیکھ کر رونا آ رہا تھا۔ لیکن میں سنجے کے لیے کچھ کر بھی تو نہیں سکتا تھا۔ سنجے پانی پانی بولنے لگا، لیکن میں سنجے کو پانی کہاں سے لا کر دیتا؟
میں نے ظہیر اور رانا کی طرف دیکھا، تو دونوں کے ہی ہونٹ پیاس کی وجہ سے خشک ہوئے پڑے تھے۔ وہ دونوں بھی لاچاری سے میری طرف دیکھنے لگے۔ سنجے کے ساتھ ساتھ تینوں کی بھی حالت بہت ہی خراب ہو چکی تھی۔ ابھی تک ہمیں جنگل میں بھوک اور پیاس کے علاوہ کوئی خطرہ نہیں ملا تھا۔
میں نے سنجے کے ساتھ ظہیر اور رانا کو چھوڑا اور ہمت کرتے ہوئے پانی کی تلاش میں نکل پڑا۔ لیکن جانے سے پہلے میں دونوں سے بولا:
راجہ: اب ہم یہاں پر سیف ہو چکے ہیں۔ اس لیے ابھی ہمیں آگے بڑھنے سے پہلے آرام کرنا چاہیے۔ پہلے کچھ کھانے پینے کے لیے ڈھونڈتے ہیں۔ اس کے بعد کچھ سوچتے ہیں۔
یہ بول کر میں پانی کی تلاش کے لیے نکل گیا تھا۔
سیدھا سٹریٹ میں نہیں گیا تھا۔ جہاں رانا، سنجے اور ظہیر کے ساتھ تھا، اس جگہ کو دھیان میں رکھتے ہوئے پیچھے کا راستہ چھوڑ کر آدھے گھنٹے تک آگے اور دائیں بائیں پانی کی تلاش میں مارا مارا پھرتا رہا، لیکن مجھے پانی کہیں نظر نہیں آیا۔ تو پھر میں نے سوچا کیوں نہ کسی درخت کے اوپر چڑھ کر دیکھا جائے کہ کہیں آس پاس کچھ کھانے پینے کے لائق ہے یا نہیں۔
تھکن تو بہت ہو رہی تھی، پھر بھی ہمت کرتے ہوئے پاس میں نظر آنے والا سب سے بڑا درخت تھا، اس پر چڑھنے لگا۔ مجھے بہت زیادہ پریشانی ہونے لگی، لیکن پھر بھی میں ہمت نہ ہارتے ہوئے درخت پر چڑھنے لگا۔ مشکل سے ہی سہی، لیکن میں اس درخت پر چڑھنے میں کامیاب ہو گیا۔ خود کا بیلنس رکھتے ہوئے میں نے آس پاس نظر دوڑائی اور جہاں تک دیکھ سکتا تھا، دیکھنے لگا۔
تو جو منظر مجھے دکھا، اسے دیکھ کر ہی میری روح کانپ اٹھی۔
دور دور تک اونچے اونچے لمبے لمبے درخت تھے اور کہیں بھی مجھے زمین نہیں دکھی۔ بس پیچھے کے راستے جہاں ہمارا قید خانہ تھا، وہاں کی زمین اور پہاڑ نظر آ رہے تھے۔ جس راستے ہم جا رہے تھے، اس طرف بھی پہاڑ تھے۔ وہ سب کے سب بھیانک جنگل سے بھرے ہوئے تھے۔
نہیں، یہ راستے کسی بھی حساب سے ہمارے لیے سیف نہیں تھے۔ یہاں تو ہم شاید ایک ہی رات میں مر جائیں اور پھر آگے ہمیں کچھ بھی کھانے پینے کو ملے کہ نہ ملے۔
یہاں سے مجھے ساحل سمندر بھی نظر آ رہا تھا، جو میرے حساب سے تین یا چار کلومیٹر دور تھا۔ اور اگر ہم یہیں سے جنگل کو کاٹتے ہوئے سمندر کی طرف جائیں تو ہمارے لیے صحیح رہے گا۔ اور اب جتنا ہمیں دم تھا، وہ ہمیں لگا کر سمندر کی طرف جانا ہوگا۔ اور ویسے بھی یہی راستہ بھی سیف ہے۔ اگر وہاں گارڈز نہ ملے تو ہی ہم بچ پائیں گے۔
میں نیچے اتر کر اپنے دوستوں کے پاس گیا۔ سنجے کی آواز اب نہیں آ رہی تھی۔ شاید پیاس کی وجہ سے سنجے بیہوش ہو گیا تھا، یا ہوش میں رہنے کے قابل نہیں تھا۔ اس پر مدہوشی طاری ہونے لگ گئی تھی۔ جیسے ہی میں وہاں پہنچا میں نے کہا۔
راجہ: ظہیر، ہم سیدھے راستے نہیں جا سکتے، وہ راستہ ہمارے لیے سیف نہیں ہے۔
ظہیر اپنے ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے دھیرے سے بولا:
ظہیر: راجہ، تم جو کرنا چاہو کرو، لیکن جلدی، اب بس کچھ ہی ہمت باقی ہے۔
میں نے رانا کی طرف دیکھا تو مجھے اس پر ترس آ گیا۔ وہ بیچارہ ہمارے پیچھے بھاگا تھا اپنی لائف کو بچانے کے لیے۔ لیکن زندگی بچانے کے لیے اسے بھی ہمارے ساتھ خوار ہونا پڑ رہا تھا۔ رانا کی بھی حالت اب صحیح نہیں تھی۔ رانا ہم تینوں میں ہی سب سے کمزور تھا۔ لیکن رانا نے بڑی ہمت کا ثبوت دیتے ہوئے ہمارا ساتھ دیا تھا۔
راجہ: ظہیر، ہمیں سنجے کو اٹھا کر (سمندر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) اس طرف جانا ہے۔ اگر زندگی ممکن ہے تو بچ جائے گی۔ ورنہ ختم تو ہونی ہی ہے۔ ایک کوشش کر کے دیکھ لیتے ہیں۔ جتنا ہو سکا، خود کو بچانے کی کوشش کریں گے۔
ہم نے آتے ہوئے راستے میں ہی مشین گن چھوڑ دی تھی۔ کون اتنی بھاری گن اٹھاتا پھرتا، بس چھری اور چاقو ہی تھے ہماری سیفٹی کے لیے۔ ظہیر اور رانا کی حالت کو دیکھتے ہوئے میں نے سنجے کو اپنے کندھے پر اٹھا لیا۔ سنجے کو کوئی ہوش نہیں تھا۔ لیکن درد کی وجہ سے سنجے کے منہ سے ہلکی ہلکی کراہیں نکل رہی تھیں۔